ٹرمپ کے دستخط کردہ آرڈرز کو ان کے آفیشلز "کامن-سینس امیگریشن پالیسیز" قرار دے رہے ہیں۔ ان احکامات میں امریکہ کی جنوبی سرحد پر نیشنل ایمرجنسی کا نفاذ، مسلح افواج کی تعیناتی، سرحدی دیوار کی تعمیر، اسائلم کا خاتمہ اور امریکہ میں پیدا ہونے والے کچھ بچوں کی پیدائشی شہریت کا خاتمہ اور دیگر شامل ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے دن ہی امریکہ کی سینیٹ نے ملک کے نئے وزیرِ خارجہ کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔
امریکہ میں سرکاری محکموں کی اصلاحات کے لیے بنائے گئے نئے محکمے ’ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی‘ سے راماسوامی کی علیحدگی کے بعد اب اس محکمے کی قیادت صرف ایلون مسک کریں گے۔
ٹرمپ نے توقع کے مطابق ان احکامات پر بھی دستخط کیے ہیں جس سے امریکہ باضاطہ طور پر پیرس کلائمیٹ چینج کے معاہدوں سے نکل جائے گا۔ انہوں نے اپنے عہدے کی پہلی مدت کے دوران بھی ایسا ہی کیا تھا جسے سابق صدر بائیڈن نے الٹ دیا تھا۔
حلف برداری کی تقریبات میں پرفارم کرنے والے دوسرے فنکاروں میں منتخب صدر کے دو پسند یدہ گلوگار، اوپرا سنگر کرسٹوفر Christopher Macchio اور کنٹری سنگر لی گرین ووڈ شامل تھے۔
کنگ جونیئر کی پیدائش 15 جنوری 1929 کو ہوئی تھی جو منگل کا دن تھا۔ امریکہ میں چونکہ زیادہ تر تعطیلات پیر کو کی جاتیں ہیں، اس لیے ان کا یوم پیدائش ہر سال جنوری کے تیسرے ہفتے کو منایا جاتا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنس وفا میں شائع ایک بیان میں عباس نے کہا کہ ،’’ ہم آپ کی مدت صدارت کے دوران دو ریاستی حل پر مبنی امن کے حصول کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں ۔‘‘
ان رہنماؤں میں یوکرین کے صدر زیلنسکی، ترکیہ کے صدررجب طیب ایردوان،جرمن چانسلر اولاف شولز برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر اور کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو،بھارتی وزیر اعظم مودی، یورپی کمیشن کی صدر اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل، مارک روٹے شامل ہیں۔
بنیادی طور پر ایگزیکٹو آرڈر صدر کے دستخطوں سے جاری ہونے والی ایک ایسی دستاویز ہےجو یہ ظاہر کرتی ہے کہ صدر کس طرح وفاقی حکومت کو منظم کرنا چاہتے ہیں۔ ایگزیکٹو آرڈر وفاقی ایجنسیوں کے لیے ہدایات ہوتی ہیں کہ انہیں کیا کارروائی کرنی ہے یا انہیں کیا رپورٹس حاصل کرنی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا،"اگر ہم سالانہ اربوں ڈالر ادا کرنے جا رہے ہیں، تو انہیں (افغانستان کو) بتائیں کہ جب تک وہ ہمارا فوجی سازوسامان واپس نہیں کرتے ہم انہیں رقم نہیں دیں گے۔ ... تو، ہم انہیں چند روپے دیں گے۔ ہم فوجی سازوسامان واپس چاہتے ہیں۔"
بائیڈن تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جن کے لیے چار سال قبل ان کے پیش رو نے ایک نوٹ لکھا اور پھر چار سال بعد اب بائیڈن اسی پیش رو کے لیے جانشین کے طور پر خط لکھیں گے۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available