واشنگٹن میں قائم تنظیم فریڈم ہاوٴس کی سالانہ رپورٹ پاکستان جمہوری اور شخصی آزادیوں میں مزید نیچے
ارشاد احمد عارف کا کہنا تھا کہ خراب معاشی حالات کی وجہ سے اخبار کی صنعت شدید متاثر ہوئی ہے۔ نجی کمپنیوں کے اشہتارات بھی کم ہو گئے ہیں، لہذٰا اخبارات کی آمدن کا واحد ذریعہ اب حکومتی اشتہارات ہی رہ گئے ہیں۔
پاکستان سے افغان مہاجرین کو ڈی پورٹ کرنے اور مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کمیٹی میں افغان مہاجرین کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات عاصم علی رانا کی اس رپورٹ میں۔
دونوں ملکوں کے درمیان طورخم میں زیرو پوائنٹ کے قریب مورچے کی تعمیر پر حالات کشیدہ ہونے پر پاکستان نے گزرگاہ کو مبینہ طور پر بند کر کے دو طرفہ تجارت اور آمدورفت کا سلسلہ روک دیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس نئے سیاسی منظر نامے میں پاکستان کو علاقائی سلامتی، توانائی کی ضروریات، اقتصادی اور دفاعی معاملات میں اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل کرنسیز میں سب سے بڑا مسئلہ اسے ریگولرائز کرنے سے متعلق ہے۔ کیوں کہ یہ مالیاتی معاملات کا ایک نیا رجحان ہے اس لیے یہ ابھی کافی غیر مستحکم ہے اور اسے کنٹرول کرنا بھی مشکل ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مجموعی اسکور میں کمی آئی ہے اور اسےسو میں سے صرف32 پوائنٹس دیے گئے ہیں۔ دوسری طرف جن ملکوں میں شہری آزادیوں میں گزشتہ سال بہتری نظر آئی ہے ان میں جنوبی ایشیا کے دو ملک بنگلہ دیش اور سری لنکا ، اور مشرق وسطیٰ میں دہائیوں کی خانہ جنگی سے تباہ حال ملک شام شامل ہیں۔
تجزیہ کار سید محمد علی کہتے ہیں کہ پاکستان کو جب 2008 میں ان طیاروں کی پہلی کھیپ ملی تو اس وقت امریکی نائب وزیرِ خارجہ رچرڈ باؤچر نے کانگریس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بلاک 52 صرف دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہوں گے۔
پولیس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ارمغان قریشی اپنے والد کے نام پر بھی منشیات منگواتا رہا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں غیر ملکی کورئیر کمپنی سمیت دو کمپنیوں کو بھی شامل تفتیش کیا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان میں دیامیر بھاشا ڈیم کے متاثرین کا شاہراہِ قراقرم سے ملحقہ گراؤنڈ میں گزشتہ گیارہ دن سے دھرنا جاری ہے۔ مظاہرین حکومت سے ڈیم کی اراضی کا معاوضہ اور دیگر وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پاکستان کا شمار ان 10 سرفہرست ملکوں میں نہیں ہوتا جہاں سے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخلے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن آتے ہیں۔ پھر بھی اس کے ہزاروں شہری ہر سال یورپ پہنچنے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔
سابق سفیر اور وسط ایشیائی امور کے ماہر طارق عثمان حیدر کہتے ہیں کہ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد پاکستان کی خواہش رہی ہے کہ وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ اس کے تاریخی، ثقافتی اور تجارتی تعلقات بحال ہوں۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available