سید عمیر ایک پیچیدہ بیماری کی وجہ سے خود وہیل چیئر پر ہیں لیکن وہ بہت سے لوگوں کے لیے امید کی کرن ہیں۔ وہ اپنے ’نیکی آن وہیل‘ پروجیکٹ کے ذریعے ان افراد کو الیکٹرک وہیل چیئر فراہم کرتے ہیں جن کی زندگی اس سواری سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ سید عمیر کی کہانی دیکھیے ثمن خان کی اس رپورٹ میں۔
خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے کرم کے ڈپٹی کمشنر کے قافلے پر حملے کے بعد صوبائی حکومت نے امن معاہدے پر دستخط کرنے والے عمائدین سے باز پرس اور ملوث ملزمان کے ساتھ ساتھ ان کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ ایک بار پھر مؤخر کرکے نئی تاریخ 13 جنوری مقرر کر دی ہے۔
گلگت بلتستان کے مشہور سیاحتی مقام اسکردو میں ان دنوں وقفے وقفے سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ برف باری کے سبب پہاڑوں سے گھری وادیاں دلکش منظر پیش کر رہی ہیں۔ اسکردو میں پیر کو درجہ حرارت منفی پانچ ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ آئندہ آنے والے دنوں میں مزید برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
فرقہ وارانہ کشیدگی اور فسادات سے متاثرہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے کرم میں امن معاہدے کے بعد بھی حالات معمول پر نہیں آئے اور اتوار کو ضلعے میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
لوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں مسافر بس بم دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک جب کہ 36 کے قریب زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ بلوچ عسکریت پسند تنظیم ’بی ایل اے‘ نے مسافر بس پر حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد کسی پاکستانی وزیرِ خارجہ کا دورۂ بنگلہ دیش دونوں ملکوں کے بڑھتے تعلقات کا عکاس ہوگا۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ڈپٹی کمشنر کرم پر بگن کے علاقے میں نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کی۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈیرہ بگٹی نے اعتراف کیا ہے کہ ضلع کے سرکاری اسپتال میں کوئی گائناکالوجسٹ یا لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں ہیں۔ ڈیرہ بگٹی وزیرِ اعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی کا حلقۂ انتخاب ہے۔
سال 2024 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو سات ارب ڈالر کا قرضہ فراہم کیا جس نے معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد دی۔ اس قرضے کی منظوری کے بعد پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا اور معیشت میں بہتری آئی۔
بعض قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد کٹھن ہو گا۔ جب کہ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ امن کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی حکومت نے ’اُڑان پاکستان‘ کے نام سے ایک معاشی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں اقتصادی مسائل حل کرنے کے لیے ہدف شدہ فریم ورک کا تعین کیا گیا ہے۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available