خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے کرم کے علاقے بگن سمیت گرد و نواح میں امن و امان اور ریاستی عمل داری کی بحالی کے لیے مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی دوسرے روز بھی جاری ہے جب کہ ان علاقوں سے شہریوں کا انخلا بھی شروع ہو گیا ہے۔
اتوار کی صبح پشاور میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری کی زیر صدارت ایک اعلی سطح کے اجلاس میں کارروائی شروع کرنے کی منظوری دی گئی
تجزیہ کار اور کالم نویس سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ جہاں تک بات ہے حکومت سے مذاکرات کی تو پی تی آئی کے مختلف رہنما یہ بیان دے چکے ہیں کہ مذاکرات کا 190 ملین پاونڈ کیس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر عمران خان کو سزا ہو بھی جاتی ہے تو مذاکرات جاری رہیں گے۔
سینئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں پہلے ہی یہ پیغام پہنچایا گیا تھا کہ انہیں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں 14 سال قید کی سزا دی جائے گی لیکن وہ سوشل میڈیا پر مہم نہ چلائیں۔ مزید تفصیلات جانیے حامد میر کے اس انٹرویو میں۔
ملزم سے تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک افسر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جب ملزم سے تفتیش کی گئی تو اس کا کہنا تھا کہ وہ خود دو چھوٹے بچوں کا باپ ہے وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔
راولپنڈی کی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قید کی سزا سنا دی ہے۔ لندن سے پاکستان کی سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیسے آئے اور یہ پورا کیس تھا کیا؟ بتا رہے ہیں عاصم علی رانا۔
جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر 33 گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔ ٹرکوں پر مشتمل قافلے میں مقامی تاجروں کو چاول، آٹا، کھانا، کوکنگ آئل، ادویات، پھل اور سبزیوں سمیت دیگر اشیائے ضروریہ پہنچائی جا رہی تھیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما و کیل فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو سیاسی بنیاد پر سزا سنائی گئی ہے اور عدالتی فیصلے پر کوئی کوئی حیرت نہیں ہے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ جمعے کو دن ساڑھے گیارہ بجے سنائے گی۔ عدالتی عملے نے عمران خان کے وکلا کو فیصلہ سنانے سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی طرف سے قومی اسمبلی میں جمع کروائی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق چار سال کے عرصے میں سائبر کیسز پر سزاؤں کی شرح صرف تین فی صد کے قریب ہے۔
آرمی چیف سے ہونے والی اس ملاقات کو گزشتہ سال نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے بعد پی ٹی آئی کا جنرل عاصم منیر کے ساتھ پہلا باضابطہ رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔
چارٹر آف ڈیمانڈ میں نو مئی 2023 اور 24 سے 27 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن اور پی ٹی آئی کے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات شامل ہیں۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available