پاڑہ چنار روڈ کی مسلسل بندش کے خلاف سب سے زیادہ احتجاجی دھرنے اور مظاہرے ملک کے سب سے بڑے اور اہم تجارتی شہر کراچی میں ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں شہر مں آمدورفت بری طرح متاثر ہے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے اسماعیل شاہ جب دس برس کے تھے تو انہیں پولیو کی تشخیص ہوئی۔ پولیو کے سبب ان کی ایک ٹانگ مفلوج ہو گئی تھی۔ اسماعیل نے اپنی بیماری کو چیلنج سمجھتے ہوئے آگاہی شروع کی۔ مزید جانیے نذرالاسلام کی رپورٹ میں۔
بنگلہ دیش میں پاکستان کے سفیر رہنے والے افراسیاب مہدی ہاشمی سمجھتے ہیں کہ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا ہے جب کہ بنگلہ دیش عوامی پارٹی پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔
تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر امریکہ و مغرب کی تنقید نئی بات نہیں ہے۔ البتہ بلاول نے امریکہ اور عمران خان پر بیک وقت تنقید کر کے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔
پاڑہ چنار میں جمعے کو احتجاجی دھرنا آٹھویں روز بھی جاری ہے جب کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پشاور، کراچی اور دیگر شہروں میں مطالبات کے حق میں دھرنے اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ نو مئی واقعات کے بارے میں فوج کا نقطۂ نظر واضح ہے، نو مئی فوج کا نہیں عوام کا مقدمہ ہے۔
پاکستان کے بہت سے نوجوان روزگار اور بہتر مستقبل کی خواہش میں ملک چھوڑ کر جانے کو ترجیح دے رہے ہیں اور ایسے میں بعض غیر قانونی راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ نوجوان غیر قانونی طور پر یورپ جانے کا رسک کیوں لے رہے ہیں؟ جانیے اس ویڈیو میں۔
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان، یوناما نے کہا ہے کہ اسے اس بارے میں مستند رپورٹس ملی ہیں کہ 24 دسمبر کو افغانستان کے صوبے پکتیکا میں پاکستانی ملٹری فورسز کے فضائی حملوں میں عورتوں اور بچوں سمیت درجنوں شہری ہلاک ہوئے تھے۔
وائس آف امریکہ کے سوال کے جواب میں امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم ان رپورٹس سے آگاہ ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں کالعدم تحریکِ طالبان (ٹی ٹی پی) کے کیمپ پر فضائی حملے کیے ہیں۔ لیکن ہمیں اس کارروائی میں بچوں کی ہلاکت کی رپورٹس پر تشویش ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جن افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان میں کور کمانڈرز ہاؤس لاہور سمیت جی ایچ کیو راولپنڈی، ملتان کینٹ، مردان، بنوں کینٹ، میانوالی ایئر بیس، راہوالی کینٹ، آئی ایس آئی آفس فیصل آباد سمیت دیگر فومی تنصیبات پر حملہ کرنے والے بھی شامل ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے گزشتہ برس غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا جس کے تحت اب تک لاکھوں افغان باشندوں کو افغانستان بھیجا جا چکا ہے۔ اب بعض افغان باشندے غیر قانونی طور پر دوبارہ پاکستان آئے ہیں۔ مزید تفصیل مرتضیٰ زہری کی اس رپورٹ میں۔
وفاق میں اقلیتی ملازمین میں صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تعداد 59 فی صد اور صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ملازمین 23 فی صد ہیں۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available