صدر ٹرمپ نے ہفتے کو سماجی رابطے کی سائٹ ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا ہے کہ حماس نے صرف تین یرغمالوں کو رہا کیا ہے جن میں ایک امریکی شہری بھی شامل ہے اور وہ تمام ٹھیک حالت میں نظر آ رہے ہیں۔
ہفتے کو غزہ کی پٹی کے علاقے خان یونس میں یرغمالوں کی رہائی کے لیے ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں حماس اور فلسطینی عسکری تنظیم اسلامک جہاد کی جانب سے تین یرغمالوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا۔
جے ڈی وینس کے تبصروں نے سیکیورٹی کانفرنس میں موجود رہنماؤں اوراعلیٰ عہدے داروں کو حیران کر دیا جو یہ توقع کر رہے تھے کہ امریکی نائب صدر کی تقریر یوکرین اور روس پر مرکوز ہو گی۔جب کہ انہوں اس مسئلے کا سرسری ذکر کیا۔
ایران نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک لبنان کی پروازوں کو اپنے ہاں اترنے کی اجازت نہیں دے گا جب تک بیروت میں اس کی پروازوں کو اترنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
دو ہفتے قبل رہا ہونے والے یرغمال کیتھ سیگل نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ مجھے 484 دنوں تک ناقابل تصور حالات میں رکھا گیا۔ مجھے ہر روز ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ میرا آخری دن بن سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے بھوکا رکھا گیا ۔ مجھے جسمانی اور جذباتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
یوکرین میں روس کی جنگ کے سبب مردوں کی ایک بڑی تعداد فوج کے لیے خدمات انجام دے رہی ہے۔ ایسے میں کانوں میں مزدوروں کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اب کئی خواتین کان کنی کا شعبہ اختیار کر رہی ہیں۔ خواتین کان کن اس کام سے متعلق کیا کہتی ہیں؟ جانیے اس رپورٹ میں۔
ٹرمپ کے نامزد وزیر تجارت ہاورڈ لاٹنک نے بتایا کہ انتظامیہ جوابی محصولات کے دائرے میں آنے والے ہر ملک کا الگ الگ جائزہ لے گی اور یہ کارروائی یکم اپریل تک مکمل ہو جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین روس کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل ہو گا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے سے متعلق کسی بھی امن مذاکرات کے دوران یوکرین کیلئے بھی جگہ ہوگی۔
حماس کے ترجمان عبداللطیف القنوعہ نے کہا ہے کہ ہم غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہماری دلچسپی اسرائیل کے ساتھ اس معاہدے پر پوری طرح عمل درآمد کرنے میں ہے۔
ترک صدر کا پاکستان کا دورہ اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوئى حکمت عملی بنانے کے لیے ہے؟ وائس آف امریکہ کے عمران جدون سے بات کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی سے منسلک ، بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر حسین شہید سہروردی نے اس کا تجزیہ کیا ہے، آئیے سنتے ہیں۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ سے تباہ حال غزہ میں سے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو نکالنے کی تجویز خطے کو بحرانوں کے ایک دائرے میں دھکیل دے گی جس سے امن و استحکام کو نقصان پہنچے گا۔
ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے اور پوٹن نے فون پر طویل بات چیت کی جس میں انہوں نے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے " مل کر، بہت قریب سے کام کرنے" کا عزم کیا ہے اور شاید وہ ذاتی طور پر ایک دوسرے کے ممالک میں ملاقات کریں گے۔"
مزید لوڈ کریں
No media source currently available