فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے ہفتے کو غزہ کی پٹی میں دو الگ الگ عوامی تقریبات کے دوران یرغمالوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا۔
حماس نے چار یرغمالوں کی لاشیں حوالے کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں سے تین کا تعلق بیباس خاندان سے ہے۔ جن میں سے ایک شیری بیباس اور دو ان کے چھوٹے بچوں کی باقیات ہیں، جب کہ چوتھا ایک معمر یرغمال تھا۔
حسن نصر اللہ 27 ستمبر 2024 کو اُس وقت ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے جب وہ بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک بنکر میں کمانڈروں سے ملاقات کر رہے تھے۔
امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق انہوں نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے منگل کو سعودی عرب میں ملاقات کے دوران بھی دونوں ملکوں کے صدور کی ملاقات کے بارے میں بات چیت کی تھی۔
شام کا قدیم شہر پلمائرہ یا تدمور خانہ جنگی سے قبل سیاحوں کے لیے خاصی دلچسپی کا باعث تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ شہر میں بچھی بارودی سرنگوں کے باعث اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش کرنے والے بہت سے افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مزید جانیے اس رپورٹ میں۔
اسرائیلی فوج نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیری بباس سمیت تمام یرغمالوں کو واپس اسرائیل بھیجے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق شیری بباس کے شوہر یاردن بباس سمیت دیگر اہلِ خانہ کو لاش سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی سے سنکیانگ میں یغور ، تبتی اور دوسری نسلی اقلیتوں کے ہزاروں افراد سخت جبری حالات میں ، سولر پینلز پروڈکشن ،بیٹری تیار کرنے ، موسمی ذراعت اور سمندری خوراک کی پراسسنگ میں کام کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
غزہ کے علاقے خان یونس میں جمعرات کو حماس نے ایک تقریب کے دوران تابوت میں لاشوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا۔ اس موقع پر سینکڑوں افراد موجود تھے۔
پوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ منگل کو سعودی عرب میں اعلیٰ امریکی اور روسی حکام کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی بات چیت کے نتائج سے خوش ہیں، انہوں نے انہیں "اعلیٰ" قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان متنازعہ تعلقات کو بہتر بنانےکی جانب پہلا قدم ہے۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available