غزہ میں 15 ماہ سے زائد جاری رہنے والی جنگ روکنے کے لیے ہونے والی بات چیت میں کئی رکاوٹیں آئیں اور کئی مواقع پر معاہدے کے قریب پہنچ کر پیش رفت رک گئی۔
غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں رفح، نصیرات اور شمالی غزہ میں جمعرات کی علی الصباح تک جاری رہیں جس کے نتیجے میں متعدد گھر بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی خبر سن کر بدھ کے روز غزہ کی پوری پٹی میں فلسطینی جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر امڈ آئے۔ ان میں سے کچھ خوشی کے آنسو بہا رہے تھے ، کچھ سیٹیاں بجا رہے تھے اور کچھ تالیاں بجا رہے تھے اور اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔
سیکرٹری جنرل گوتریس نے نامہ نگاروں سے جنگ بندی کے معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا، ’اقوام متحدہ اس معاہدے پر عمل درآمد کی حمایت اورمصائب کا سامنا کرنے والے لاتعداد فلسطینیوں کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی میں تیزی لانے کے لیے تیار ہے‘۔
معاہدے کے بعد چھ ہفتوں کے دوران تقریباً ایک سو یرغمالوں میں سے 33 رہا کیے جائیں گے اور وہ کئی ماہ کی اسیری کے بعد اپنے پیاروں سے دوبارہ مل پائیں گے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رہائی پانے والوں دو امریکی شہری بھی شامل ہوں گے
دوحہ میں کئی ہفتوں کے طویل مذاکرات کے بعد ہونے والے اس معاہدے میں حماس کے پاس زیر حراست درجنوں یرغمالوں کی مرحلہ وار رہائی، اسرائیل میں قید سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں بے گھر ہوجانے والے لاکھوں افراد کی واپسی اور فلسطینیوں کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد کی فراہمی کا عزم کیا گیا ہے۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس ڈیل میں کیا ہے اور اب تک ہم اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟ دیکھیے صبا شاہ خان کی رپورٹ میں۔
اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی سے متعلق حال ہی میں پیش رفت ہوئی ہے۔ کیا فریقین جنگ بندی پر رضا مند ہو جائیں گے اور یہ معاہدہ کتنا کار آمد ثابت ہوگا۔ جانیے اس رپورٹ میں۔
مذاکرات کے ثالثوں میں شامل قطر نے کہا کہ اسرائیل اورفلسطینی عسکریت پسند گروپ معاہدے کو منظور کرنے کے اب تک کے "قریب ترین مقام" پر ہیں۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ کنارے پر ہے۔ جو بائیڈن نے پیر کو اپنے آخری فارن پالیسی خطاب میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت یرغمالوں کی رہائی ہو سکتی ہے جب کہ فلسطینیوں کے لیے امداد میں وسیع پیمانے اضافہ ہوگا۔
یوتم ولک، جن کی عمر 28 سال ہے، اسرائیلی فوج کے بکتر بند کور میں ایک افسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ایک نہتے فلسطینی نوجوان کے قتل کا منظر ان کے ذہن پر نقش ہو کر رہ گیا ہے۔
اس معاہدے کے لیے امریکہ، مصر اور قطر نے کئی ماہ سے گفت و شنید اور بات چیت کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہی تھی۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں امریکہ میں قیادت کی تبدیلی سے قبل ان کوششوں میں تیزی آ گئی تھی۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available