شام میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے والی فورسز کے سربراہ احمد الشرع کا کہنا ہے کہ شام میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے کم از کم چار برس کا عرصہ درکار ہے۔
فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اکتوبر میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے شمالی غزہ میں وسیع تر کارروائیاں شروع کرنے کے بعد سے یہ ہسپتال "دہشت گرد تنظیموں کا ایک اہم گڑھ بن گیا ہے اور اسے دہشت گردوں کے ٹھکانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔"جبکہ حماس نے اس کی سختی سے تردید کی ہے
غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ نصیرات کیمپ میں اسرائیلی حملے میں العودا اسپتال کے قریب صحافیوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں پانچ صحافی ہلاک ہوئے جو القدس الیوم ٹیلی ویژن سے وابستہ تھے۔
اخبار وال سٹریٹ جرنل کے ساتھ ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے پچھلے ہفتے کہا: "میں حماس کو ہٹانے سے پہلے جنگ ختم کرنے پر راضی نہیں ہوں گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل تل ابیب سے 30 میل دور غزہ میں انہیں اقتدار میں نہیں آنے دے گا۔ "ایسا نہیں ہونے والا ہے۔"
اس موقع پر قصبے کے میئر انٹون سلمان نے کہا کہ بیت المقدس کا پیغام ہمیشہ امن اور امید کا پیغام رہا ہے۔ان دنوں، ہم دنیا کو اپنا پیغام بھی بھیج رہے ہیں: امن اور امید کا، لیکن اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دنیا کو فلسطینی عوام کے طور پر ہمارے مصائب کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
شام کے نئے حکمرانوں نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں مسلح گروپوں نے اپنے آپ کو تحلیل کر کے وزارت دفاع میں ضم ہونے پر اتفاق کیا ہے۔
ایران سے شام کے لیے پروازیں بدستور بند ہیں جب کہ مقامی میڈیا میں رپورٹس آ رہی ہیں کہ آئندہ ماہ کے آخر میں فلائٹس بحال ہونے کا امکان ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے یمن کے حوثی باغیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حوثیوں کے رہنماؤں کا مقدر بھی حماس اور حزب اللہ کے رہنماؤں کی طرح ہوگا۔
انہوں نے پارلیمنٹ میں قانون ساز ارکان سے یہ گفتگو حماس کے اس بیان کے دو روز بعد کی جس میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم نے ایک غیر معمولی مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ "پہلے سے زیادہ قریب" ہے۔
ایجنٹ نے بتایا کہ وہ ہم سے خریداری کر رہے تھے اور اس بارے میں ان کی معلومات صفر تھیں کہ وہ کیا لے رہے ہیں۔ ان کے سامنے موجود کمپنیاں، کاروبار، مارکیٹنگ، انجنئیرنگ، غرض ہر چیز کی اصلیت نمائشی تھی اور وہ اس پر بھروسہ کر رہے تھے۔
حالیہ دنوں میں اردن، امریکہ، قطر اور سعودی وفود نے دمشق کے دورے کیے ہیں جن کے دوران شام میں باغی گروپوں کی حکومت کی طرف سے نظم و نسق اور ملک چلانے کی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
فائرنگ کی زد میں آنے والے F/A-18 طیارے نے بحیرۂ احمر میں موجود یو ایس ایس ہینری ایس ٹرومین طیارہ بردار بحری بیڑے سے پرواز بھری تھی
مزید لوڈ کریں
No media source currently available