اس معاہدے کے لیے امریکہ، مصر اور قطر نے کئی ماہ سے گفت و شنید اور بات چیت کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہی تھی۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں امریکہ میں قیادت کی تبدیلی سے قبل ان کوششوں میں تیزی آ گئی تھی۔
اسرائیل کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جاری لڑائی میں اس کے مزید تین فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نےتینیوں اہلکاروں کی شناخت بھی ظاہر کر دی ہے جن کی عمریں 20 سے 22 برس کے درمیان ہیں۔
تدفین فوج کی جانب سے باقیات کی شناخت کی تصدیق کے بعد ہوئی۔ حمزہ کی باقیات بھی اس کے والد 53 سالہ یوسف الزیادنی کے ساتھ غزہ کی ایک سرنگ سے ملی تھیں جسے جمعرات کو شناخت ہونے کے بعد سپرد خاک کیا گیا۔
یہ انتخاب اس بات کا عکاس ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اپنی پریشان کن جنگ کے بعد ایران کےحمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کا ااثر و رسوخ متاثر ہوا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جمعرات کو مزید 70 اموات ہوئی ہیں جب کہ اس تنازع میں اب تک ایک لاکھ نو ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔
یوسف الزیادنی کی باقیات ایک ایسے وقت میں دریافت ہوئیں جب اسرائیل اور حماس جنگ بندی کے ایک معاہدے پر غور کر رہے ہیں جس سے غزہ میں موجود بقیہ یرغمالوں کو رہائی مل جائے گی اور جنگ روک دی جائے گی۔
ترکیہ نے شام میں کرد عسکریت پسندوں کو ’خون ریزی کے بغیر‘ انتقالِ اقتدار نہ کرنے کی صورت میں کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
غزہ کی عسکری تنظیم حماس نے اسرائیل پر اکتوبر 2023 کے حملے میں یرغمال بنائے گئے 34 افراد کو رہا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے اسرائیل کو اسلحے کی فروخت کے اس پیکج میں شامل بعض ہتھیار امریکہ کے موجودہ ذخیرے سے بھیجے جاسکتے ہیں جب کہ زیادہ تر اسلحے کی فراہمی میں کم از کم ایک سال یا متعدد برس لگ سکتے ہیں۔
اسرائیلی فورسز نے خان یونس میں غزہ کی وزارتِ داخلہ کے دفتر سمیت شمالی غزہ میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ، شاتی کیمپ، مغازی کیمپ اور غزہ سٹی میں کارروائیاں کیں۔
فلسطینی اتھارٹی نے فلسطینیوں کے علاقوں میں قطر کے میڈیا ادارے الجزیرہ کی نشریات پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق الجزیرہ کی نشریات پر پابندی کا اطلاق بدھ سے ہوا ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سنا نے وزارت خارجہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا "وزیر خارجہ اسد الشیبانی، وزیر دفاع مرحف ابو قصرہ اور جنرل انٹیلی جنس سروس کے سربراہ انس خطاب کی سربراہی میں شام کا ایک سرکاری وفد سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ گیا ہے۔"
مزید لوڈ کریں
No media source currently available