طالبان نائب وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کی نئی حکومت دوستی چاہے گی تو ہم بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے، دشمن ہمیشہ کے لیے دشمن اور دوست ہمیشہ کے لیے دوست نہیں ہوتے۔
تہران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کے روز افغانستان کی جانب سے پشدان ڈیم کے پراجیکٹ پر سخت احتجاج اور تشویش کا اظہار کیا کیوں کہ اس کی وجہ سے ایران میں داخل ہونے والے پانی کی مقدار پر اثر پڑ سکتا ہے ۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ تبت میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے ماحولیات یا نیچے کے دھارے میں پانی کی فراہمی پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ چین یہ ڈیم دریائے یرلنگ زینگبو پر بنائے گا جو تبت سے بھارت میں بہتا ہے اور بھارت کی وزارت خارجہ نے چین کو جمعہ کو اس منصوبے پر نئی دہلی کی تشویش سے آگاہ کیا۔
یونین کاربائیڈ کارپوریشن ایک امریکی کمپنی ہے جو کیڑے مار کیمیکل اور اسی قسم کی دوسرے کیمیکلز بناتی ہے۔ 40 سال قبل 1984 میں دو اور تین دسمبر کی درمیانی شب میں اس فیکٹری سے زہریلی گیس لیک ہوئی تھی جو پورے شہر میں پھیل گئی تھی جس کے نتیجے میں پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت نے رنگ روڈ کے اطراف نئی رہائشی کالونیوں سمیت ریلوے لائنز کے نئے منصوبے شروع کر رکھے ہیں جس پر اسے بعض حلقوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں پر شہریوں کو کیا تحفظات ہیں؟ دیکھیے سرینگر سے یوسف جمیل اور زبیر ڈار کی رپورٹ۔
پاکستان اور طالبان حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر ان جھڑپوں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ لیکن کچھ طالبان عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں رات ڈیڑھ بجے کے قریب شروع ہوئیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق بھارتی روپے کی کمزوری کی متعدد ملکی و عالمی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بھارت میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا اور عوام کی جیبوں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو سرحدی علاقوں سے افغانستان کے اندر دیگر حصوں میں منتقل کرنے کے لیے اسلام آباد سے 10 ارب روپے مانگے تھے۔
اعلامیہ طلبہ گروپوں، سیاسی جماعتوں اور شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک کی قیادت کرنے والے گروپ ’اینٹی ڈسکرمنیشن موومنٹ‘ کے خیالات پر مبنی ہو گا۔
تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ طالبان حکومت نے معیشت، انسانی حقوق اور دیگر مسائل میں گھرے افغانستان میں پاکستان مخالف بیانیے کو مضبوط کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
بھارتی سفارت کار کے بقول شیخ حسینہ کو واپس بنگلہ دیش کی تحویل میں دینا ایک پیچیدہ معاملہ بن گیا ہے کیوں کہ عدالتی عمل کے لیے جرائم کے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available