تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ طالبان حکومت نے معیشت، انسانی حقوق اور دیگر مسائل میں گھرے افغانستان میں پاکستان مخالف بیانیے کو مضبوط کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
بھارتی سفارت کار کے بقول شیخ حسینہ کو واپس بنگلہ دیش کی تحویل میں دینا ایک پیچیدہ معاملہ بن گیا ہے کیوں کہ عدالتی عمل کے لیے جرائم کے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں۔
طالبان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان سے متصل صوبہ پکتیا اور خوست کے اضلاع دانِ پٹھان اور علی شیر کے سرحدی علاقوں میں ہونے والی کارروائی میں سرحد پار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
طالبان حکومت کے وزیرِاطلاعات خیراللہ خیرخواہ نے کہا ہے کہ ملکی روایات کے مطابق پاکستان سے آنے والے لوگ افغانستان کے "مہمان" ہیں۔
امیر خان متقی نے کہا کہ ان کی حکومت کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ یہ کوئی بہادری کا عمل نہیں ہے جس میں بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو نشانہ بنایا جائے۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ اردو سمیت کئی زبانوں کے ماہر تھے۔ وہ اپنی تقریریں اردو رسم الخط میں لکھتے تھے۔ وہ علامہ اقبال کے مداح تھے اور ان کے بہت سے اشعار اپنی تقریروں میں استعمال کرتے تھے۔
اے ایف پی کے صحافی نے بتایا کہ یہ قبر جنوبی عراق کے صوبے المثنیٰ کے علاقے تل الشیخیہ میں وہاں کی مرکزی شاہراہ سے تقریباً 15 سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر دریافت ہوئی تھی ۔
اسپتال کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں جمعرات کو اپنے گھر میں اچانک بے ہوش ہونے کے بعد رات 8 بجے نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی ایمرجینسی میں لایا گیا تھا۔ لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی جان نہیں بچائی جا سکی اور رات 9 بج کر 51 منٹ پر ان کا انتقال ہو گیا۔
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان، یوناما نے کہا ہے کہ اسے اس بارے میں مستند رپورٹس ملی ہیں کہ 24 دسمبر کو افغانستان کے صوبے پکتیکا میں پاکستانی ملٹری فورسز کے فضائی حملوں میں عورتوں اور بچوں سمیت درجنوں شہری ہلاک ہوئے تھے۔
کاکسس بازارمیں مقیم پناہ گزینوں کی امداد اور واپسی سے متعلق کمشنر کے مطابق آگ کی زد میں آ کر کم ازکم 19 روہنگیا پناہ گزین زخمی ہوئے۔ آگ نے پناہ گزین کیمپ میں پانی کے ٹینک، پانی فراہم کرنے کے اسٹینڈ، بیت الخلا اور غسل خانوں جیسے اہم بنیادی ڈھانچوں کو بھی راکھ کر دیا۔
یہ چین کا ایسا منصوبہ ہو گا جس سے بھارت اور بنگلہ دیش میں دریا کے نچلی طرف بہاؤ والے علاقے میں رہنے والے لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
متنازع کتاب ’شیطانی آیات‘ دہلی کے ’باہری سنز بک سیلرز‘ کی جانب سے 1999 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ کتاب پر 1988 میں پرتشدد ہنگاموں اور احتجاج کے بعد پابندی لگا دی گئی تھی۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available