رسائی کے لنکس

مزید چار یرغمالوں کی لاشیں اسرائیل کے سپرد، اسرائیلی جیلوں سے سینکڑوں فلسطینی رہا


  • جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں یرغمالوں اور قیدیوں کایہ آخری تبادلہ ہے۔
  • معاہدے کے تحت 33 یرغمالوں اور آٹھ لاشوں کی حوالگی کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
  • اسرائیل نے بھی تقریباً 2000 قیدیوں اور نظر بند افراد کو رہا کیا ہے۔
  • جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے فریقین مذاکرات کریں گے۔

ویب ڈیسک— فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مزید چار ہلاک یرغمالوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کی ہیں جب کہ اسرائیل نے بھی جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینیوں کو رہا کر دیا ہے۔

فریقین میں لاشوں اور قیدیوں کا تبادلہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کا پہلا مرحلہ ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں۔

یرغمالوں کی لاشوں کو سیکیورٹی کے حصار میں وسطی اسرائیل کے نیشنل فرانزک سینٹر لایا گیا ہے جہاں ان کی شناخت کے لیے ٹیسٹ ہوں گے۔

دوسری جانب رہا ہونے والے فلسطینی قیدی جب اپنے علاقوں میں پہنچے تو ان کے خاندان اور دوست احباب نے استقبال کیا۔

’اے پی‘ کے مطابق اسرائیل کی جیلوں سے رہا ہونے والے سینکڑوں ایسے شامل ہیں جو سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔ ان میں سے کئی افراد کو عسکریت پسندی کے شبہے میں بغیر کسی الزام کے کئی ماہ تک حراست میں رکھا گیا ہے۔

فلسطینی حکام کی جانب سے پیش کی گئی فہرستوں کے مطابق اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والوں میں 445 مرد، 21 نوعمر لڑکے اور ایک خاتون شامل ہیں۔ ان سب کو اسرائیل پر حملے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ فلسطینی حکام نے فہرستوں میں رہا ہونے والے افراد کی عمر کا اندراج نہیں کیا۔

قیدیوں کی رہائی کے اس مرحلے میں لگ بھگ 50 ایسے فلسطینیوں کو کو رہا کیا گیا ہے جن کا تعلق مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے ہے۔ رہا ہونے والے کئی افراد اسرائیل کے خلاف حملوں پر عمر قید کی سزا کا سامنا کر رہے تھے۔ ایسے رہا ہونے والے افراد کو اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں سے جلاوطن کیا جا رہا ہے جب کہ انہیں عارضی طور پر مصر منتقل کیا جا رہا ہے۔

حماس نے رواں ماہ ہی چار ہلاک یرغمالوں کی لاشیں اسرائیل کی سپرد کی تھیں جن میں شیری بیباس اور ان کے دو بچے نو ماہ کے کفر اور چار برس کے ایریل شامل تھے۔ ان چاروں کی تدفین بدھ کر دی گئی ہے۔

اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ بچوں کو ان کے اغوا کاروں نے نومبر 2023 میں قتل کیا تھا جب کہ حماس کا الزام ہے کہ یہ تینوں اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

شری بیباس کے شوہر یاردن بیباس بھی یرغمالوں میں شامل تھے جن کو قیدیوں کے تبادلے میں حماس نے زندہ اسرائیل کے حوالے کیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی جیلوں سے چھ سو سے زائد فلسطینی قیدیوں کو گزشتہ ہفتے رہا کیا جانا تھا۔ لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر ان کی رہائی منسوخ کر دی تھی۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ جب تک یرغمالوں کی تضحیک آمیز تقاریب منعقد کیے بغیر حوالگی نہیں ہوتی اس وقت تک فلسطینی قیدیوں کی رہائی مؤخر رہے گی۔

اسرائیلی کی جانب سے قیدیوں کی رہائی مؤخر کرنے کے سبب غزہ جنگ بندی معاہدے کے بارے میں خدشات نے جنم لیا تھا۔ تاہم گزشتہ روز فریقین نے چار یرغمالوں کی لاشوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کیا تھا۔

جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس نے 33 یرغمالوں اور 8 ہلاک یرغمالوں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کی ہیں جس کے بدلے اسرائیل نے بھی تقریباً 2000 قیدیوں اور نظر بند فلسطینیوں کو رہا کیا ہے۔

اسرائیل اور حماس میں تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی معاہدہ گزشتہ ماہ ہوا تھا جس کا پہلا مرحلہ چھ ہفتوں ہر مشتمل تھا جو رواں ہفتے ختم ہو رہا ہے۔ اس پہلے مرحلے میں دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہونا تھا۔ لیکن اب تک اس میں کسی قسم کی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکہ، قطر اور مصر کی ثالثی میں گزشتہ ماہ جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا جس کے تحت 19 جنوری کو باقاعدہ طور پر یرغمالوں اور قیدیوں کے تبادلے کا عمل آغاز ہو ا تھا۔

اسرائیل کا وہ مقام جہاں سات اکتوبر کو سب سے زیادہ لوگ مارے گئے
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:11 0:00

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب حماس کی جانب سے یرغمالوں کی لاشوں کی سپردگی اور اسرائیل کی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی پہلے مرحلے کے تحت آخری تبادلہ تھا۔

غزہ جنگ کا آغاز سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر دہشت گرد حملے کے بعد ہوا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1200 افراد ہلاک اور لگ بھگ 250 کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔ حماس کو امریکہ اور متعدد مغربی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل کی شروع کی گئی کارروائیوں میں حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 48 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس تعداد میں ہلاک ہونے والوں میں 17 ہزار عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔

غزہ میں اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ سے اس ساحلی پٹی کی لگ بھگ 23 لاکھ آبادی میں سے 90 فی خاندان بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ غزہ میں بنیادی ڈھانچے اور صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے لی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG