رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ تحریک کے رہنماؤں نے سیاسی جماعت بنا لی


  • کمیٹی نے پارٹی کے لیے 'جاتیا ناگورک پارٹی' کا نام تجویز کیا ہے جس کا انگریزی مخفف این سی پی یعنی نیشنل سٹیزن پارٹی ہے۔
  • رپورٹ کے مطابق ناہد اسلام پارٹی کے کنوینر جب کہ اختر حسین سیکریٹری ہوں گے۔ پارٹی میں چار دیگر اہم عہدوں کے لیے بھی ناموں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
  • اختر حسین ڈھاکہ یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین کے سابق سوشل سروسز کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔

ویب ڈیسک _ بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ تحریک کے رہنما ناہد اسلام نے سیاست میں قدم رکھتے ہوئے نئی سیاسی جماعت بنا لی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق طلبہ کی نئی جماعت بنگلہ دیش میں رواں برس کے اختتام پر ممکنہ طور پر ہونے والے انتخابات میں حصہ لے گی۔

بنگلہ دیش کے معروف اخبار 'ڈیلی اسٹار' کی رپورٹ کے مطابق طلبہ تحریک کی قیادت کرنے والے ناہد اسلام نے نوبیل انعام یافتہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری حکومت میں مشیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ناہد اسلام بنگلہ دیش میں گزشتہ برس کوٹہ سسٹم کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے روح رواں تھے۔ان کی قیادت میں شروع ہونے والی طلبہ تحریک وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کی وجہ بنی تھی۔

طلبہ کے احتجاج کی وجہ سے پانچ اگست 2024 کو وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اقتدار اور ملک چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی تھیں اور وہ بدستوربھارت میں ہی موجود ہیں۔

بنگلہ دیش میں مبینہ امتیاز کے خلاف تحریک چلانے والے طلبہ کے پلیٹ فارم 'جاتیا ناگورک کمیٹی' نے ایک فیس بک پوسٹ میں پارٹی کے نام کی تصدیق کی ہے۔

کمیٹی نے پارٹی کے لیے 'جاتیا ناگورک پارٹی' کا نام تجویز کیا ہے جس کا انگریزی مخفف این سی پی یعنی نیشنل سٹیزن پارٹی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ناہد اسلام پارٹی کے کنوینر جب کہ اختر حسین سیکریٹری ہوں گے۔ پارٹی میں چار دیگر اہم عہدوں کے لیے بھی ناموں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

بنگلہ دیش میں گزشتہ برس کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ تحریک کی قیادت ناہد اسلام نے کی تھی جب کہ اختر حسین سیکریٹری تھے۔

اختر حسین ڈھاکہ یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین کے سابق سوشل سروسز کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔

بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک سے ابھر کر سیاست کے منظر نامے پر آنے والے طلبہ کی سیاسی جماعت کے قیام کا باضابطہ اعلان ڈھاکہ میں جمعے کو کیا جائے گا۔ منتظمین کو امید ہے کہ پارٹی لانچنگ کی تقریب میں تین لاکھ افراد شریک ہوں گے۔

گزشتہ برس دسمبر میں طلبہ رہنماؤں نے نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے کہا تھا کہ اس کے لیے ایسی کوئی جماعت قابلِ قبول نہیں ہو گی جو اقتدار میں رہتے ہوئے بنائی جائے۔

بی این پی نے طلبہ تحریک کے رہنماؤں سے کہا تھا کہ اگر وہ سیاست میں آنا چاہتے ہیں تو عبوری حکومت سے استعفیٰ دیں۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے لی گئی ہیں۔

فورم

XS
SM
MD
LG