پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچز 17 جنوری اور 25 جنوری سے شروع ہوں گے۔ دونوں میچز کے لیے پاکستان ٹیم کی قیادت شان مسعود کریں گے جب کہ سعود شکیل ان کے نائب ہوں گے۔
ہارمیسن کا مزید کہنا تھا کہ کپتان جوس بٹلر یا انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو ہی صرف اس معاملے میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔ یہ انگلش کپتان کی لڑائی نہیں ہے بلکہ آئی سی سی کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔
بعض کرکٹ ماہرین اور سابق کھلاڑی 'ٹو ٹیئر منصوبے' سے اختلاف کر رہے ہیں جب کہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے غیر مقبول ہوتی ہوئی ٹیسٹ کرکٹ میں دوبارہ دلچسپی پیدا ہو گی۔
فخر زمان نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد وہ بیمار پڑ گئے تھے جس کی وجہ سے ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔ تاہم اب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں اور چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے لیے سو فی صد پرامید ہیں۔
سڈنی ٹیسٹ نہ کھیلنے سے متعلق روہت شرما نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہ تو ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ہے اور نہ ہی وہ ٹیسٹ کرکٹ سے الگ ہو رہے ہیں۔
سڈنی ٹیسٹ کا نتیجہ فیصلہ کرے گا کہ آیا رواں برس جون میں کون سی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں مدِ مقابل ہو گی۔
سڈنی ٹیسٹ جیتنے کے لیے نہ صرف بھارتی کپتان روہت شرما پر دباؤ ہے بلکہ یہ دباؤ ڈریسنگ روم میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کو گزشتہ برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہونا پڑا تو سال کے اختتام میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیموں کو ون ڈے سیریز میں شکست دینا ٹیم کے بڑے کارناموں میں شامل رہا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ رپورٹ کر رہے ہیں کہ روہت شرما سڈنی ٹیسٹ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر سکتے ہیں جب کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام اور سلیکٹرز بھی کپتان سے فیصلے پر بات کر چکے ہیں۔
بھارت کی پوری ٹیم 155 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ جیسوال نے 84، روہت شرما نے نو، کے ایل راہل صفر، وراٹ کوہلی پانچ، رشبھ پنت 30، رویندرا جڈیجہ دو، نتیش کمار ریڈی ایک اور اکش دیپ سات رنر بنا کر آؤٹ ہوئے۔
جنوبی افریقہ کو دوسری اننگز میں کامیابی کے لیے 148 رنز کا ہدف ملا تھا۔ پاکستان نے 99 رنز پر میزبان ٹیم کے آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کر لیا تھا۔ جینسن اور ربادا نے ٹیم کو کامیابی تک پہنچایا۔ جینسن 16 رنز جب کہ ربادا 31 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available