"پہلے روزے پر بہت پیاس لگ رہی تھی تو چھپ کر پانی پی لیا تھا۔ گھر میں والدہ سادہ افطار پر زور دیتی تھیں اور پکوڑوں کا منع کرتی تھی۔ لیکن ہمیں ایسے روزے میں مزہ نہیں آتا تھا اور اگر ایسی افطاری ہوتی تھی تو ہم روزہ نہیں رکھتے تھے۔" دیکھیے مصنفہ عفت نوید کی یادیں وی او اے کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"کبھی کبھی امّی دہی جمانے کی کوشش کرتی تھیں لیکن مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی جما بھی ہو۔ جون چچا ہمیشہ چیختے تھے کہ میرے شکر پارے کو ہاتھ کیوں لگایا اب میں نہیں کھاؤں گا۔" دیکھیے معروف شاعر جون ایلیا کی بھتیجی شاہانہ رئیس امروہوی کی دلچسپ یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"فلائٹ میں مسافروں کا روزہ دیکھ کر ہم خوش ہوتے تھے کہ کام کم کرنا ہے۔ دورانِ پرواز روزہ رکھنے پر پہلے سخت پابندی نہیں تھی۔ کبھی کوئی پوچھ لیتا تو ہم جھوٹ بھی بول دیتے تھے کہ روزہ نہیں ہے۔" دیکھیے سابق فضائی میزبان رخشندہ پرویز کی دلچسپ یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
’’سحری کے بعد سو جاتے تھے تو اٹھنے کے بعد شام کا انتظار ہوتا تھا کہ اذان کب ہوگی۔ دسترخوان پر سادہ ڈشیں ہوا کرتی تھیں۔ ہمارے دیہات میں فرمائشی طور پر کوئی چیز نہیں پکتی جو دستیاب ہو پکا لیا جاتا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود اب خوشی نہیں ہے پتا نہیں کیا راز ہے۔‘‘
"رمضان میں پرانی دلّی جیسا ماحول اور کہیں نہیں ملتا۔ پرانی دلّی میں آپ کسی کے گھر بلانے پر نہیں جاتے، بس پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں ہم جو کھانے کھاتے ہیں، وہ ذائقے دکانوں پر کسی کو نصیب نہیں ہوں گے۔" دیکھیے دلّی کی رہائشی ثنا خان کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"پڑدادا کہتے تھے کہ روزے وہ رکھتا ہے جس کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو۔ مشرقی پاکستان میں چنے کی دال بھگو کر بغیر اُبالے اس کی چاٹ بنتی تھی۔ ملٹری اکیڈمی میں ایک بار ہم سے روزے میں ڈیڑھ گھنٹہ قلابازیاں لگوائیں اور مشق کرائی گئی۔ ایک گھنٹے بعد ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ ہم کہاں ہیں۔"
"مجھے امّی نے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ روزہ رکھیں گے۔ سحری میں ہر چیز کو دیکھ کر پوچھا کہ اس میں سحری کون سی ہے یہ تو دودھ جلیبی ہے۔ میں آج بھی شیر خرمے کو میٹھا نہیں سمجھتی بلکہ اسے عید سمجھتی ہوں۔" دیکھیے ماہرِ تعلیم عارفہ سیّدہ زہرہ کے بچپن کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"جب ہم لوگ شوٹنگ کرتے تو علاقے کے لوگ ہمیں کہتے تھے کہ روزہ ہمارے ساتھ کھول کر جانا۔ کئی مرتبہ تو ایسا ہوتا تھا کہ جاتے جاتے وہ افطار ہماری گاڑی میں رکھ دیتے تھے۔" دیکھیے فلم اسٹار غلام محی الدین کی رمضان کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"بہت سے لوگ گھروں کی دیوار میں سوراخ کرکے پورا سال چاند کی گردش پر نظر رکھتے تھے۔ آس پاس کے علاقوں میں چاند کی خبر دینے کے لیے پہاڑوں پر الاؤ جلایا جاتا تھا۔" دیکھیے سابق سول سرونٹ محمد ولی خان کی رمضان کی یادیں وی او اے کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"سحری میں میرٹھ کے مشہور گولہ کباب بنتے تھے جن کا مسالہ اماں ہاتھ سے سِل پر پیستی تھیں۔ کوفتوں کے ساتھ ایسی باریک باریک چپاتیاں بنتی تھیں جو دو نوالوں ہی میں کھا لی جاتیں۔" دیکھیے رضیہ عابد کی رمضان کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
ایک ہی پیالے میں جمایا گیا پانچ فلیور کا دہی، تازہ پھلوں کے پلاؤ، قسم قسم کے کباب اور گلاب کا شربت۔ برِ صغیر میں مغل بادشاہوں کے دور میں سحر و افطار کے دسترخوان پر اور کیا کیا ہوتا تھا؟ جانیے مغل دور کے پکوانوں پر ریسرچ کرنے والی سلمیٰ یوسف حسین سے۔
"کشمیر ہنرمند لوگوں کی بستی ہے۔ رمضان میں ہماری آمدنی بھی زیادہ ہوتی تھی اور خرچ بھی۔ بچپن میں ہمیں بھوک لگتی تو گھر والے کہتے تھے کہ دھوپ میں کھانا کھاؤ، اس سے تمہارے روزے نہیں ٹوٹیں گے۔" دیکھیے کشمیر کے تاریخ داں ظریف احمد ظریف کی رمضان کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
مزید لوڈ کریں