"رمضان میں پرانی دلّی جیسا ماحول اور کہیں نہیں ملتا۔ پرانی دلّی میں آپ کسی کے گھر بلانے پر نہیں جاتے، بس پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں ہم جو کھانے کھاتے ہیں، وہ ذائقے دکانوں پر کسی کو نصیب نہیں ہوں گے۔" دیکھیے دلّی کی رہائشی ثنا خان کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"پڑدادا کہتے تھے کہ روزے وہ رکھتا ہے جس کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو۔ مشرقی پاکستان میں چنے کی دال بھگو کر بغیر اُبالے اس کی چاٹ بنتی تھی۔ ملٹری اکیڈمی میں ایک بار ہم سے روزے میں ڈیڑھ گھنٹہ قلابازیاں لگوائیں اور مشق کرائی گئی۔ ایک گھنٹے بعد ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ ہم کہاں ہیں۔"
"مجھے امّی نے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ روزہ رکھیں گے۔ سحری میں ہر چیز کو دیکھ کر پوچھا کہ اس میں سحری کون سی ہے یہ تو دودھ جلیبی ہے۔ میں آج بھی شیر خرمے کو میٹھا نہیں سمجھتی بلکہ اسے عید سمجھتی ہوں۔" دیکھیے ماہرِ تعلیم عارفہ سیّدہ زہرہ کے بچپن کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"جب ہم لوگ شوٹنگ کرتے تو علاقے کے لوگ ہمیں کہتے تھے کہ روزہ ہمارے ساتھ کھول کر جانا۔ کئی مرتبہ تو ایسا ہوتا تھا کہ جاتے جاتے وہ افطار ہماری گاڑی میں رکھ دیتے تھے۔" دیکھیے فلم اسٹار غلام محی الدین کی رمضان کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"بہت سے لوگ گھروں کی دیوار میں سوراخ کرکے پورا سال چاند کی گردش پر نظر رکھتے تھے۔ آس پاس کے علاقوں میں چاند کی خبر دینے کے لیے پہاڑوں پر الاؤ جلایا جاتا تھا۔" دیکھیے سابق سول سرونٹ محمد ولی خان کی رمضان کی یادیں وی او اے کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"سحری میں میرٹھ کے مشہور گولہ کباب بنتے تھے جن کا مسالہ اماں ہاتھ سے سِل پر پیستی تھیں۔ کوفتوں کے ساتھ ایسی باریک باریک چپاتیاں بنتی تھیں جو دو نوالوں ہی میں کھا لی جاتیں۔" دیکھیے رضیہ عابد کی رمضان کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
ایک ہی پیالے میں جمایا گیا پانچ فلیور کا دہی، تازہ پھلوں کے پلاؤ، قسم قسم کے کباب اور گلاب کا شربت۔ برِ صغیر میں مغل بادشاہوں کے دور میں سحر و افطار کے دسترخوان پر اور کیا کیا ہوتا تھا؟ جانیے مغل دور کے پکوانوں پر ریسرچ کرنے والی سلمیٰ یوسف حسین سے۔
"کشمیر ہنرمند لوگوں کی بستی ہے۔ رمضان میں ہماری آمدنی بھی زیادہ ہوتی تھی اور خرچ بھی۔ بچپن میں ہمیں بھوک لگتی تو گھر والے کہتے تھے کہ دھوپ میں کھانا کھاؤ، اس سے تمہارے روزے نہیں ٹوٹیں گے۔" دیکھیے کشمیر کے تاریخ داں ظریف احمد ظریف کی رمضان کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"پہلا روزہ رکھا تو تین، چار بار پانی پی لیا۔ سحری میں چاولوں میں کھجور ڈال کر کھاتے تھے۔ رات کو لڑکے ساتھ بیٹھ کر فلموں کی کہانیاں سناتے تھے۔" دیکھیے اداکار جمال شاہ کے بچپن کے رمضان کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"روزے کا وقت ہوتے ہی توپ کا گولہ چھوڑا جاتا تھا اور اسی طرح سحر کا وقت ختم ہوتے ہوئے بھی گولہ داغا جاتا تھا۔ ہمارے بھوپال میں مہمان داری بہت ہوتی تھی۔ خواتین ہاتھ سے سویاں بناتی تھیں جو بہت باریک ہوتی تھیں۔" ریٹائرڈ اسکول پرنسپل نسیم حمزہ کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"رمضان میں ہمارے محلے میں اذان کی آواز نہیں آتی تھی اور اس دور میں سائرن بھی نہیں بچتا تھا۔ افطار کے لیے اونچی عمارتوں پر ایک بانس پر بلب لگا دیتے تھے۔ جب بلب روشن ہوتا تھا تو پتا چلتا تھا کہ روزہ کھل گیا۔" دیکھیے ڈاکٹر نگار سجاد کی گزرے رمضان کی یادیں وائس آف امریکہ کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
"اب تو مہینہ پہلے رمضان کی تیاری ہوتی ہے لیکن ہمارے زمانے میں ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ ایک تو مالی وسائل نہیں ہوتے تھے دوسرا ہمارے والد کہتے تھے کہ فریج کا رکھا ہوا کھانا نہیں کھانا، لہٰذا ہر چیز تازہ بنتی تھی۔" دیکھیے صحافی حمیرا اطہر کی گزرے رمضان کی یادیں وی او اے کی سیریز 'ماضی کے رمضان' میں۔
مزید لوڈ کریں