مڈٹرم انتخابات کے ہفتے کی رات تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق اب سینیٹ میں ڈیمو کریٹس اراکین کی تعداد 50 جب کہ ری پبلکنز کی تعداد 49 ہے۔
امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر مارک کیلی نے سوئنگ اسٹیٹ ایریزونا میں ری پبلکن امیدوار بلیک ماسٹرز کو شکست دے دی ہے۔
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کانگریس کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا؟ یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہے۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد امریکہ کی سیاست کیا رخ اختیار کرے گی؟ رپورٹ دیکھیے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے دن کو صدر جوبائیڈن نے جمہوریت کے لیے بہترین دن قرار دیا ہے۔ ان انتخابات میں ڈیموکریٹ کی کاکردگی توقع سے بہتر بتائی جاتی ہے؟۔ تفصیلات جانیے وائس اف امریکہ کی صباہ شاہ خان سے
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ملک میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو، جن میں کانگریس کے کنٹرول کے لیے سخت مقابلے کے بعد کئی نشستوں پر فیصلہ ہونا باقی ہے، جمہوریت کے لیے ایک اچھا دن قرار دیا ہے۔
امریکہ میں زیر بحث کئی اہم ایشوز پر ملک کی دو بڑی جماعتوں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹی کا مؤقف اور پالیسی مختلف ہے اس لیے انتخابی نتائج کو آئندہ ہونے والی قانون سازی اور اقدامات سے متعلق اہمیت دی جارہی ہے۔
ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں پر انتخابات کے علاوہ کئی ریاستوں کے گورنرز کے انتخاب کے لیے منگل کو ووٹنگ ہوئی۔
امریکہ کا سیاسی منظرنامہ بڑا متنوع ہے۔ یہاں نہ صرف خواتین بلکہ ہر رنگ ونسل کے لوگ سیاست میں حصہ لیتے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے تنوع کی جھلک وسط مدتی انتخابات میں بھی نظر آئی ہے۔ صباہ شاہ خان آپ کو ملوارہی ہیں فاطمہ اقبال زبیر سے جو مسلمان امریکی خاتون امیدوار ہیں۔
انتخابات سے پہلےہونے والے جائزوں کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر ریپبلیکنز ایوان یا سینیٹ یا دونوں پرقبضہ کرسکتے ہیں۔ ماضی میں ایسا ہوا ہے کہ جب ایک سیاسی جماعت کانگریس یا اس کے ایک چیمبرکوکنٹرول کرتی ہے اوردوسری پارٹی کے پاس وائٹ ہاؤس کا کنٹرول ہوتا ہے تو سیاسی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔
امریکہ میں 8 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر آصف محمود امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکنیت کے امیدوار ہیں۔ آصف محمود اگر یہ انتخاب جیت جاتے ہیں تو وہ پہلے پاکستانی امریکی اور جنوبی ایشیائی مسلمان ہوں گے جو کانگریس کے رکن بنیں گے۔ صباہ شاہ خان کی رپورٹ
انتخابات کے بعد کی عدالتی لڑائیوں میں ممکنہ طور پر انتخابات کے بہت سے پہلو شامل ہوں گے۔’ ڈیموکریسی ڈاکٹ‘ کے مطابق وہ ڈاک کے بیلٹس کی گنتی اور پروسیسنگ کے علاوہ، ووٹروں کی اہلیت، ووٹروں اور انتخابی کارکنوں کو ڈرانےدھمکانے،اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بارے میں قانونی چیلنجوں کی توقع رکھتی ہے۔
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر آصف محمود کیلیفورنیا سے ایوان نمائندگان کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ امریکہ میں بسنے والے جنوبی ایشیائی ڈاکٹرز کمیونٹی کا اپنے ایک ساتھی کے امیدوار ہونے پر کیا ردعمل ہے؟ جانتے ہیں صبا شاہ خان کی اس رپورٹ میں
مزید لوڈ کریں
No media source currently available