رسائی کے لنکس

ریاستِ مشی گن کے پہلے مسلمان گورنر بننے کے خواہش مند عرب نژاد امریکی


مشی گن میں عرب نژاد امریکی برادری بڑی تعداد میں آباد ہے۔ اگر السید اپنی صلاحیت منوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ بات ایک خوش آئند سیاسی تبدیلی کے مترادف ہوگی۔ وہ اُن 13 مسلمان امیدواروں میں سے ایک ہیں جو اس بار مشیگن سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات اس سال چھ نومبر کو ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً 90 امریکی مسلمان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ڈیموکریٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑ رہے ہیں، اس توقع کے ساتھ کہ وہ آنے والی کسی ممکنہ ''نیلی لہر'' کا حصہ بنیں گے، جس کے نتیجے میں ممکن ہے کہ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹ پارٹی اکثریت حاصل کر لے۔

ڈاکٹر عبدل السید نوجوان ہیں، جن کا تعلق امریکہ کی عرب نژاد برادری سے ہے۔ وہ اُن 13 مسلمان امیدواروں میں سے ایک ہیں جو اس بار مشی گن سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جہاں اُن کا مذہب اور نسل اُن کی طرز زندگی خاص اہمیت کی حامل ہے۔ اُن پر سیاسی مخالفین کے حملے اور الزامات عام سی بات ہے۔

ریاست مشی گن میں عرب نژاد امریکی برادری بڑی تعداد میں آباد ہے۔ اگر السید اپنی صلاحیت منوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ بات ایک خوش آئند سیاسی تبدیلی کے مترادف ہوگی۔

ڈاکٹر السید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ''جب میں نے کالج سے گریجوئیشن کی، بل کلنٹن نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نےمیڈیکل اسکول میں کیوں داخلہ لیا ہے، اور کیا کبھی میں کسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنا چاہوں گا۔ اُس وقت میں سوچ رہا تھا کہ یہ میدان میری بساط سے باہر ہے''۔

السید کا بچپن مشی گن میں گزرا ہے، جہاں اُنھیں اکثر تعصب کے رویے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

اُنھوں نے بتایا کہ ''جب میں ہائی اسکول کی جونیئر کلاس میں تھا، میں اپنی فٹبال ٹیم کا کپتان ہوا کرتا تھا۔ اور 11ستمبر کےہفتے کے دوران کھیل منسوخ کردیے گئے۔ لیکن ایک ہفتہ بعد ہم نے دوبارہ کھیلنا شروع کردیا۔ مجھے فٹبال کا وہ میچ نہیں بھولتا۔ لوگوں نے ہمارا مذاق اڑانا شروع کردیا۔مثلاً 'پگڑی پننے والے'، 'اسامہ'، وغیرہ۔ عجب بات یہ ہے کہ میرے بھائی کا نام اسامہ ہے، میں کہا کرتا تھا کہ ''میں وہ السید نہیں ہوں''۔

لیکن، اس بار ہوسکتا ہے کہ وہی اصل سید ہوں جو مشی گن کی تاریخ میں نیا نام پیدا کریں، اور ملک کے پہلے منتخب مسلمان امریکی گورنر بن جائیں۔ اُن کے لیے سب سے بڑا چیلنج ووٹروں کی کافی تعداد کو اپنی حمایت کرنے میں کامیاب کرناہے، اُس ریاست میں جس نے 2016ء کے صدارتی انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت میں خاصی مدد کی تھی۔

اسامہ سبلانی مشی گن کے شہر ڈیربورن سے ہے، جہاں سے وہ 'عرب امریکی نیوز' شائع کرتے ہیں۔ بقول اُن کے ''گزشتہ 10برسوں کے دوران، عرب نژاد امریکیوں کے لیے حالات نے ڈرامائی انداز سے پلٹا کھایا ہے''۔

لیکن، اُنھوں نے واضح کیا کہ یہ چیلنج اتنا آسان نہیں، کیونکہ السید کو ووٹروں کی اکثریت کو قائل کرنا ہوگا کہ اُنھیں ووٹ کیوں دیا جائے۔

السید کو ابھی کئی مرحلوں سے گزرنا ہے۔ اُن کا ڈیموکریٹ پارٹی کےکئی امیدواروں سے مقابلہ ہوگا، تاکہ سات اگست کو مشی گن میں منعقد ہونے والی پرائمری الیکشن میں اُنھیں ریاست مشی گن کے گورنر کے طور پر نامزدگی ملے۔

اُنھیں ترقی پسند خیال کیا جاتا ہے، اور ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز کے متعدد حامی ووٹروں کی بھی اُنھیں حمایت حاصل ہے۔ سینڈرز نے 2016ء میں مشی گن سے صدارتی پرائمری جیتی تھی۔

اگر اگست میں ڈیموکریٹ ووٹر اُن کا انتخاب کرتے ہیں، تب جا کر اُنھیں درکار حمایت کا امکان ہوگا کہ وہ نومبر کے عام انتخاب میں ری پبلیکن پارٹی کے مدمقابل کو شکست دے سکیں۔

XS
SM
MD
LG