روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کو جہاں تین سال ہونے کو ہیں وہیں یوکرینی فوجیوں کی بحالی اور ذہنی صحت پر توجہ دینے کے لیے ملک بھر میں مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ایسا ہی ایک مرکز حاضر سروس اہلکار نے پہاڑوں پر اپنے آبائی گاؤں کے پاس بنایا ہے۔ مزید تفصیل اس رپورٹ میں۔
پوٹن کی جانب سے جاری ہونے والی معافی کے بعد روس نے گزشتہ ہفتے بدھ کو ہونے والے طیارہ کریش کی کسی حد تک ذمے داری قبول کرلی ہے تاہم کریملن کے بیان میں طیارے کو مار گرانے کا ذکر نہیں ہیں
یوکرین کو جن تمام صلاحیتوں کی ضرورت ہے، ان میں فضائی دفاع سب سے اہم ہے کیونکہ یہ ان شہروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جنہیں روس اپنے ڈرونز، کروز میزائلوں اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا رہا ہے۔
سرمائی کوٹ میں ملبوس مشتبہ شخص کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ یوکرین کی انٹیلی جینس سروسز کے حکم پر ماسکو آیا تھا۔ اس نے ایک الیکٹرک اسکوٹر خریدا اور پھر مہینوں بعد اسے حملے کے لیے ایک دیسی ساختہ بم ملا۔
روس کی ریڈیوایکٹو، کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل ڈیفنس کے لیے مخصوص فورس کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ایگور کیریلوف کو دارالحکومت ماسکو میں ایک رہائشی عمارت کے باہر بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
یوکرین کے نیشنل گرڈ آپریٹرز کا کہنا ہے کہ اس سال توانائی کے نظام پر روس کے 12ویں بڑے حملے نے ملک کے متعدد علاقوں میں بجلی کی سہولیات کو نقصان پہنچایا ہے۔
ہائپر سونک میزائلوں کی انتہائی تیز رفتاری کی وجہ سے دفاعی سسٹم کے لیے جوابی کارروائی کا وقت کم سے کم ہوجاتا ہے جو موجودہ ریڈار اور سینسر ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی سنجیدہ چیلنج ہے۔
روس یوکرین میں جاری جنگ کو طول دینے کے لیے شمالی کوریا سے گولہ بارود، ایران سے ڈرونز اور میزائل خریدتا رہا ہے اور اس نے افغانستان میں طالبان سے تعلقات بھی مضبوط کیے ہیں۔
خارکیف کے گورنر سینیوبوف نے مختصر پیغام رسانی کے ایک پلیٹ فارم ٹیلی گرام کو بتایا کہ روسی فورسز نے ایک احاطے کو ہدف بنایا جس سے 40 سے زیادہ مکانوں کو نقصان پہنچا۔
یوکرینی حکام کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس میزائل میں کس قسم کا وار ہیڈ تھا اور آیا اس میں جوہری مواد استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available