پاکستان کی حکومت نے ’اُڑان پاکستان‘ کے نام سے ایک معاشی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں اقتصادی مسائل حل کرنے کے لیے ہدف شدہ فریم ورک کا تعین کیا گیا ہے۔
پاکستان کی حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ نومبر میں مہنگائی میں کمی آئی ہے۔ دوسری جانب تیل کے نرخ بھی کم ہوئے ہیں۔ کیا عوام کو مہنگائی میں کمی نظر آ رہی ہے اور کیا ان کو ریلیف ملا ہے؟ جانیے محمد ثاقب کی اس رپورٹ میں۔
ایوانِ نمائندگان میں حکومتی اخراجات کے پیکج پر ووٹنگ کے دوران 235 ارکان نے اس کی مخالفت کی جب کہ 174 نے حمایت میں ووٹ دیا۔
امریکی معیشت کی جولائی سے ستمبر پر محیط تیسری سہ ماہی میں حقیقی شرح نمو 3.1 فیصد ریکارڈ کی گئی جو کہ ابتدائی اندازوں سے بڑھ کر رہی۔
بعض ماہرین اسے مہنگائی میں کمی کے ساتھ معاشی استحکام سے تعبیر کر رہے ہیں جب کہ کچھ تاجر رہنما شرح سود میں کمی کو اب بھی ناکافی قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدے یکسر ختم کرنے سے جہاں سرمایہ کاروں کو منفی پیغام جا رہا ہے وہیں ان اقدامات سے بجلی کی قیمتوں میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔
ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر برکس ممالک نے امریکی ڈالر کی جگہ اپنی کرنسی تیار کی تو ان کی مصنوعات پر 100 فیصد محصول عائد کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان تیزی سے چین کے ساتھ ساتھ روس سے بھی اپنے تعلقات استوار کر رہا ہے اور اس کے لیے وہ کسی بیرونی دباؤ کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہا۔
آن لائن کرپٹو کرنسی ’بِٹ کوائن‘ اپنی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی قرضہ اُن اہم مسائل میں سے ایک ہے جو معیشت کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی کڑی شرائط پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
معاشی پالیسی ساز ان دنوں ملک پر ایک سال کی واجب الادا رقم کو لوٹانے کے لیے مزید ڈھائی ارب ڈالر کے انتظام کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
مزید لوڈ کریں