امریکہ-روس مذاکرات؛ عالمی سیاست اور پاکستان پر اس کے کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟

  • ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جو عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، ان تبدیلیوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
  • ماہرین کے مطابق اس نئے سیاسی منظر نامے میں پاکستان کو علاقائی سلامتی، توانائی کی ضروریات، اقتصادی اور دفاعی معاملات میں اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
  • دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں کوئی ایک ملک طاقت کا محور نہیں رہا ہے: تجزیہ کار الماس حیدر
  • روس یوکرین جنگ کے خاتمے اور امن کی صورت میں پاکستان کو فائدہ پہنچنے گا اور اسلام آباد کو اس نئی صورتِ حال کو امید کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے: تجزیہ کار میجر جنرل (ر) اطہر عباس

اسلام آباد -- امریکہ اور روس کے تعلقات میں بہتری اور یوکرین امن معاہدے کی صورت میں عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ یوکرین تنازع کے حوالے سے ہونے والی یہ پیش رفت نہ صرف یورپ بلکہ جنوبی ایشیا پر بھی اثرات مرتب کرے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جو عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، ان تبدیلیوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سعودی عرب کی میزبانی میں امریکہ اور روس کے اعلٰی حکام نے یوکرین کے معاملے پر مذاکرات کیے تھے۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سمیت دونوں ممالک کے اعلٰی حکام شریک ہوئے تھے۔

مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں ممالک نے یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس نئے سیاسی منظر نامے میں پاکستان کو علاقائی سلامتی، توانائی کی ضروریات، اقتصادی اور دفاعی معاملات میں اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔

یوکرین میں پاکستان کے سابق سفیر میجر جنرل (ر) اطہر عباس کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی یوکرین پالیسی کے بعد عالمی سیاست کا منظر نامہ بھی تبدیل ہو رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اس نئی صورتِ حال میں پاکستان نہیں چاہے گا کہ وہ روس کو ناراض کرے۔ ساتھ ہی وہ ایسا بھی چاہے گا کہ یوکرین کے ساتھ تعلقات بھی خراب نہ ہوں۔

خیال رہے کہ پاکستان، یوکرین سے گندم منگوانے والے ممالک میں شامل رہا ہے اور روس، یوکرین تنازع میں پاکستان نے غیر جانب دار پالیسی اپنانے کا اعلان کیا تھا۔

میجر جنرل (ر) اطہر عباس کہتے ہیں کہ بائیڈن حکومت کے دوران امریکی دباؤ پر پاکستان نے یوکرین کو اسلحہ فراہم کیا تھا، تاہم سرکاری طور پر پاکستان نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔

امریکی جریدے 'انٹرسیپٹ' سمیت ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں شائع ہوتی رہی ہیں جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ 2022 اور 2023 میں آئی ایم ایف کا بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کے لیے پاکستان نے تیسرے ملک کے ذریعے یوکرین کو ہتھیار برآمد کیے تھے۔ لیکن پاکستان نے ان خبروں کی تردید کی تھی۔

روس کے وزیرِ اعظم شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس میں شرکت کے لیے گزشتہ برس اکتوبر میں اسلام آباد آئے تھے۔

اطہر عباس کے بقول پاکستان اس معاملے میں ایک حد تک ہی غیر جانب دار رہ سکتا تھا اور جب امریکہ و یورپ کا دباؤ بڑھا تو یوکرین کو براہ راست اسلحے کی فراہمی کے بجائے ایک راستہ نکالا گیا۔

اُن کے بقول کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے برطانیہ اور یورپی ممالک کے ذریعے یوکرین کو اسلحہ بھیجا۔

اطہر عباس کے بقول اسلحے کی مبینہ سپلائی پر روس نے براہ راست سخت ردِعمل نہیں دیا۔ لیکن تعلقات میں کچھ سرد مہری آئی تھی۔

اسلام آباد کے تھنک ٹینک 'ریجنل ریپو 'کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الماس حیدر کہتے ہیں کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں کوئی ایک ملک طاقت کا محور نہیں رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بڑی طاقتوں کے درمیان توازن رکھنے کی حکمتِ عملی اپنائی جو کہ بہتر پالیسی تھی اور اس پالیسی کے اب نتائج حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان مغرب اور مشرق کے درمیان اپنے تعلقات میں توازن لانا چاہتا ہے اور اسلام آباد کو چاہیے کہ جہاں سے بھی اس کے مفادات کا تحفظ ہوسکے اسے یقینی بنانا چاہیے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور روس نے سعودی عرب میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دوران یوکرین تنازع کے خاتمے اور دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی راہ پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس یوکرین تنازع ختم ہونے کی صورت میں پاکستان کے لیے چیلنجز بھی ہو سکتے ہیں اور نئے مواقع بھی نکل سکتے ہیں۔ خصوصاً عالمی سطح پر معاشی اور سیکیورٹی تعاون کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی ماحول میں اپنی پوزیشن کو احتیاط سے ترتیب دینا ہو گا تاکہ وہ اپنے قومی مفادات کا بہتر تحفظ کر سکے۔

SEE ALSO: ماضی کے برعکس پاکستان اور روس کی قربتوں کی وجہ کیا ہے؟

اطہر عباس کہتے ہیں کہ اس تنازع کے دوران اسلام آباد ماسکو کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور روس تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان نے اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں لیا ہے۔

ان کے بقول اسلام آباد موجودہ تبدیل ہوتی ہوئی صورتِ حال میں اپنی پرانی پالیسی کو ہی اپنائے رکھے گا اور آگے کے حالات واضح ہونے کے بعد ہی اپنا فیصلہ کرے گا۔

اطہر عباس کہتے ہیں کہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے اور امن کی صورت میں پاکستان کو فائدہ پہنچے گا اور اسلام آباد کو اس نئی صورتِ حال کو امید کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔

اُن کے بقول امن کے بعد یوکرین پاکستان کے لیے ایک نئی منڈی کے طور پر ابھر سکتا ہے اور برآمدات کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی یوکرین کے ساتھ کوئی بڑی تجارت نہیں تھی اور دفاعی اعتبار سے بھی اسلام آباد ہی کیف سے اسلحہ خریدتا تھا جس کے متبادل ذرائع موجود ہیں۔

الماس حیدر کہتے ہیں کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے نتیجے میں پاکستان اور روس کے اقتصادی تعلقات کو فروغ مل سکتا ہے کیوں کہ پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکی اور یورپی پابندیاں ہیں۔

وہ کہتے ہیں پاکستان اور روس سیاسی سطح پر سیاسی ہم آہنگی پیدا کر چکے ہیں جس کی مثال حالیہ اعلی سطح کے سیاسی روابط ہیں۔

الماس حیدر کے بقول اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان یہ سیاسی ہم آہنگی اقتصادی اور مالیاتی مفادات میں تبدیل نہیں ہوئی تھی جس کی بنیادی وجہ امریکی پابندیاں تھیں۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ اب وقت ہے کہ پاکستان روس کےساتھ اپنے تعلقات کو سیاسی سطح سے بڑھا کر اقتصادی و دفاعی سطح پر استوار کرے۔

SEE ALSO: پوٹن کی امریکہ کو نایاب معدنی ذخائر کی مشترکہ تلاش کے معاہدے کی پیش کش: یہ ذخائر کیا ہیں؟

اُن کے بقول اگر روس پر امریکی پابندیاں ختم ہوتی ہیں تو اقتصادی تعلقات کو فروغ مل سکتا ہےاور روس کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو محدود کرنے کا امریکی دباؤ بھی نہیں ہوگا۔

اطہر عباس کے بقول نئی صورتِ حال کے زیادہ اثرات یورپ پر مرتب ہوں گے جو کہ امریکہ کی سابق حکومت کی وجہ سے یوکرین کے حوالے سے سخت پوزیشن اپنائے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ زیادہ عرصے تک یوکرین پر سخت پوزیشن کو برقرار نہیں رکھ سکے گا اور اس صورتِ حال کو کوئی حل تلاش کرنا ہوگا۔