رسائی کے لنکس

ماضی کے برعکس پاکستان اور روس کی قربتوں کی وجہ کیا ہے؟


  • بعض ماہرین کے خیال میں پاکستان نے یہ تاخیر سے ہی سہی مگر اب یہ احساس کیا ہے کہ اسے روس ہو یا امریکہ، تمام ہی عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات اپنانے کی ضرورت ہے۔
  • تجزیہ کاروں کے مطابق روس بھی اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لایا ہے اور اب وہ پاکستان کو زیادہ اہمیت دینے لگا ہے۔
  • دونوں ممالک کے درمیان ایسے وقت میں معاشی اور تجارتی میدان میں بھی تعاون دیکھا جا رہا ہے جب پاکستان کو معاشی طور پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
  • پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر رواں سال دونوں ممالک کے درمیان فریٹ ٹرین چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

کراچی -- پاکستان اور روس کے تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف اُمور بالخصوص دفاع اور تجارت کے شعبوں میں تعاون بڑھا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان آزمائشی بنیادوں پر ریل لنک کا افتتاح بھی آئندہ ماہ ہونے جا رہا ہے۔

مختلف ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری کے پیچھے بنیادی وجہ تبدیل شدہ عالمی حالات اور دفاعی و معاشی ضروریات ہیں۔

بعض ماہرین کے خیال میں پاکستان نے یہ تاخیر سے ہی سہی مگر اب یہ احساس کیا ہے کہ اسے روس ہو یا امریکہ، تمام ہی عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات اپنانے کی ضرورت ہے۔

دونوں ممالک کے حکام نے گزشتہ برس آزمائشی بنیادوں پر فریٹ ٹرین چلانے پر اتفاق کیا تھا۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ ٹرین مارچ کے وسط میں روانہ کی جاسکتی ہے جو پاکستان سے ایران اور آذربائیجان کے راستے روس تک پہنچے گی۔

پاکستان، روس تعاون میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر راشد احمد کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور ماسکو اقتصادی، صنعتی، دفاعی اور سیکیورٹی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس ضمن میں دونوں ممالک کے درمیان دس سال قبل ہونے والا تاریخی دفاعی تعاون معاہدہ اہم سنگِ میل تھا۔

اُن کے بقول اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہت زیادہ پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ اسی معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی افواج کے درمیان اب تک سات مشترکہ جنگی مشقیں بھی ہو چکی ہیں۔ جب کہ کچھ سال پہلے پاکستان نے روسی ساختہ ایم آئی 35 ہیلی کاپٹرز بھی خریدے تھے جو پاکستان کی آرمی ایوی ایشن کور کے زیرِ استعمال ہیں۔

پاکستان اور روس کے درمیان 2014 میں ہونے والا معاہدہ سیاسی اور عسکری اُمور پر معلومات کے تبادلے کے لیے اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے مطابق بین الاقوامی سلامتی کو فروغ دینے کے لیے تعاون، انسداد دہشت گردی اور اسلحہ کنٹرول کی سرگرمیوں میں تیزی لانے اور دونوں افواج کے درمیان ایک دوسرے کے تجربات کا تبادلہ اس معاہدے کی وجوہات تھیں۔

پاکستان اور روس کی خارجہ پالیسیوں میں تبدیلی

ڈاکٹر راشد احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات جہاں بدلتے عالمی حالات کا پیش خیمہ ہیں، وہیں یہ اس بات کی بھی نشان دہی کرتا ہے کہ پاکستان دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن رکھنا چاہتا ہے۔

اُن کے بقول پاکستان روایتی طور پر امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے علاوہ چین، روس اور دنیا کی دیگر اُبھرتی ہوئی معاشی طاقتوں سے بھی بہتر تعلقات اُستوار کرنا چاہتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے روس سے سیکیورٹی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کی وجہ خطے کی جیوپولیٹیکل صورتِ حال میں تبدیلی ہے اور اس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اُمور پر مشترکہ خدشات بھی ہیں۔

ڈاکٹر راشد کے خیال میں پاکستان اور روس کی قربت کی وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں نئی دہلی نے واشنگٹن سے قریبی تعلقات مزید استوار کیے اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی، دفاعی تعاون کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بھی قائم کی گئی ہے۔ اس صورتِ حال میں پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کمزور ہوئے اور پاکستان سمجھتا ہے کہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑا ہے۔

اُن کے بقول اسی کے باعث اسلام آباد نے چین کے علاوہ اس کے اتحادی اور دوست روس سے بھی قریبی تعلقات استوار کیے ہیں۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق روس بھی اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لایا ہے اور اب وہ پاکستان کو زیادہ اہمیت دینے لگا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور روس کی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالبِ علم غالب بتول کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد امریکی پابندیوں کی وجہ سے روس کو بھی نئی مارکیٹس کی تلاش تھی تاکہ وہ تیل اور گیس دیگر ممالک کو فروخت کر سکے، ایسے میں پاکستان جیسے بڑی آبادی والے ممالک بھی اُس کی نظر میں ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان تعلقات کو تعمیری اور بامقصد بنانے میں ابھی بہت کچھ مزید کرنا باقی ہے۔

روس اور پاکستان کا انسدادِ دہشت گردی میں تعاون

پاکستان کے سابق سفیر ڈاکٹر جمیل احمد کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت 20 مختلف دہشت گرد گروپ افغانستان کی سرزمین سے آپریٹ کررہے ہیں جن میں کالعدم تحریکِ طالبان (ٹی ٹی پی) اور داعش جیسے دہشت گرد گروپ بھی شامل ہیں۔

اُن کے بقول داعش جیسی تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی، پاکستان کے ساتھ ساتھ روس کے لیے تشویش کا باعث ہے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک انٹیلی جینس شیئرنگ اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔

' معاشی اور تجارتی تعاون بڑھا ہے لیکن اب بھی بہت گنجائش موجود ہے'

دونوں ممالک کے درمیان ایسے وقت میں معاشی اور تجارتی میدان میں بھی تعاون دیکھا جا رہا ہے جب پاکستان کو معاشی طور پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب پاکستان آئی ایم ایف، دیگر مغربی ممالک اور ان کے مالیاتی اداروں سے ملنے والی معاشی امداد پر اپنا بوجھ کم کرنا چاہتا ہے اور دوسری جانب وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سمیت دیگر علاقائی تعاون کی تنظیمیوں کے ذریعے فائدہ اُٹھانے کا متمنی ہے۔

اس مقصد کے لیے پاکستان 2017 میں 'ایس سی او' کا رُکن بنا تھا جس کے بعد اس کے پڑوسی ملک بھارت کو چھوڑ کر روس اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات میں مزید بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور پاکستان کی تجارت ان ممالک سے بڑھی ہے۔

روس میں پاکستان کے سفیر خالد جمالی نے گزشتہ برس ایک بیان میں کہا تھا کہ روس کی باضابطہ دعوت کے بعد پاکستان جلد ہی انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کا حصہ بنے گا۔

یہ راہداری بحری جہازوں، ریل اور روڈ کے ذریعے منسلک ہو گی۔ ابتدائی طور پر اس راہداری کو بھارت سے سامان ایران تک سمندر کے راستے اور پھر وہاں سے سڑک اور ریل دونوں کے ذریعے آذربائیجان، روس، وسط ایشیائی ریاستوں اور یورپ تک منتقل کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

اس روٹ سے نہ صرف سامان کی ترسیل کی قیمت کم ہونے کے اندازے لگائے گئے ہیں بلکہ اسے سوئز کینال کی راہداری کے متبادل کے طور پر بھی پیش کیا جارہا ہے۔

دونوں ممالک کا بارٹر تجارت پر اتفاق

گزشتہ سال روسی نائب وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان بارٹر ٹریڈ کو حتمی شکل بھی دی گئی تھی۔

اس عمل سے روسی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان چنے، چاول، پھلوں سمیت مختلف اشیا کے لین دین کا معاہدہ عمل میں آیا تھا۔ تاہم ابھی اس کا حجم کافی کم ہے۔

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مال کے بدلے مال کی تجارت سے دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی اور اس طرح دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارتی حجم میں اضافے کے ساتھ بالخصوص پاکستان کو امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

نمل یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ثروت رؤف کے مطابق پاکستان کو جہاں روس اور وسطی اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ معاشی، تجارتی اور دیگر شعبوں میں تعلقات مزید استوار کرنے کی ضرورت ہے وہیں پاکستان کو امریکہ اور مغربی دنیا کے ممالک کے ساتھ بھی متوازن سفارتی اور سیاسی تعلقات برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔

اُن کے بقول پاکستان کے اہم تجارتی پارٹنرز میں اب بھی یہی ممالک شامل ہیں۔ ڈاکٹر ثروت رؤف کے مطابق پاکستان کے ساتھ روس کا تجارتی حجم ابھی بمشکل ایک ارب ڈالر سے ہی تجاوز کر پایا ہے اور اس تجارتی حجم میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔

رواں ہفتے دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر تبادلۂ خیال اور اس میں بہتری کے لیے کراچی میں پہلی دو روزہ پاکستان روس بین الاقوامی کانفرنس بھی ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ روس اور بعض بین الاقوامی تھنک ٹینکس سے تعلق رکھنے والے اسکالرز، ماہرین اور سفارت کاری کے میدان سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تھی۔

پاکستان کی وفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس، سائنس اور ٹیکنالوجی اور روس کی قازان فیڈرل یونیورسٹی کے تعاون سے ہونے والی اس کانفرنس کے مندوبین کا بھی خیال ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان ابھرتے ہوئے گرم جوشی کے تعلقات بدلتے عالمی حالات اور افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد امریکی انتظامیہ کے ساتھ اسلام آباد کے سرد تعلقات کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں گزشتہ تین دہائیوں میں بہتری اور بعض اہم کامیابیوں کے باوجود کئی بنیادی مسائل اب بھی برقرار ہیں جن میں سب سے اہم دفاع اور سلامتی کے شعبے سے ہے۔

ماسکو اسلام آباد سے سیکیورٹی معاملے پر تعاون بڑھانے سے پہلے کئی بار سوچ بچار کرنے پر مجبور ہے کیوں کہ اس سے دہلی اور ماسکو کے تعلقات پر بھی براہِ راست اثر پڑسکتا ہے اور بھارت کی جانب سے حالیہ عرصے میں امریکہ سے قربت کے باوجود روس سے بھی اس کے بہتر سیاسی، معاشی اور دفاعی تعلقات ہیں۔

  • 16x9 Image

    محمد ثاقب

    محمد ثاقب 2007 سے صحافت سے منسلک ہیں اور 2017 سے وائس آف امریکہ کے کراچی میں رپورٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ کئی دیگر ٹی وی چینلز اور غیر ملکی میڈیا کے لیے بھی کام کرچکے ہیں۔ ان کی دلچسپی کے شعبے سیاست، معیشت اور معاشرتی تفرقات ہیں۔ محمد ثاقب وائس آف امریکہ کے لیے ایک ٹی وی شو کی میزبانی بھی کر چکے ہیں۔

فورم

XS
SM
MD
LG