|
اسلام آباد — صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے پاکستان میں امریکی ساختہ ایف- 16 طیاروں کی مانیٹرنگ پروگرام کے لیے 39 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جاری کر دیے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت امریکہ یقینی بناتا ہے کہ پاکستان یہ طیارے صرف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرے گا اور انہیں اپنے حریف بھارت کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔
دفاعی تجزیہ کار سید محمد علی کہتے ہیں کہ امریکہ دفاعی تعاون کے جو بھی معاہدے کرتا ہے اس میں اس ملک کے حساب سے اس کی جزیات طے کی جاتی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ہر ملک کے ساتھ دفاعی تعاون میں امریکہ الگ طور پر معاہدہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ایف- 16 طیارہ دنیا کے 40 ممالک کے زیرِ استعمال ہے اور امریکہ کے ہر ملک کے ساتھ معاہدے کی نوعیت بھی الگ الگ ہے۔
اُن کے بقول ایف- 16 طیارے کے بہت سے ماڈل اور ورژن ہیں اور جب انہیں کسی ملک کو فراہم کیا جاتا ہے تو اس بات کو بھی دیکھا جاتا ہے کہ یہ جہاز کس کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔
ایف- 16 طیاروں سے متعلق ویب سائٹ 'ایف16 ڈاٹ نیٹ' کے مطابق 2006 میں ہونے والے معاہدے کے تحت پاکستان کو ایف -16 بلاک 52 سی کے 12اور بلاک 52 ڈی کے چھ طیارے فراہم کیے گئے تھے۔ یہ تمام طیارے اس وقت پاکستان فضائیہ کے زیراستعمال ہیں۔
سید محمد علی کہتے ہیں کہ پاکستان کو جب 2008 میں ان طیاروں کی پہلی کھیپ ملی تو اس وقت کے امریکی نائب وزیرِ خارجہ رچرڈ باؤچر نے کانگریس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بلاک 52 طیارے صرف دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہوں گے۔
اُن کے بقول فروری 2019 میں پلوامہ واقعے کے بعد جب پاکستان اور بھارت کے درمیان 'ڈاگ فائٹ' ہوئی تو اس میں بھارت نے ایک ایف- 16 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم پاکستان نے امریکی ماہرین کو یہ طیارے گننے کی دعوت دی تھی، جنہوں نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان کا کوئی طیارہ تباہ نہیں ہوا۔
کیا یہ بھارت کے لیے کوئی پیغام ہے؟
سید محمد علی کہتے ہیں کہ ایف- 16 طیارے پاکستان کی اپنی دفاعی ضروریات کے لیے ہیں اور پاکستان کے خلاف اگر کوئی جارحیت کرتا ہے تو پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی بھی طیارہ استعمال کر سکتا ہے۔
امریکہ کی طرف سے ایف -16 طیاروں کی مانیٹرنگ کے لیے 39 کروڑ ڈالر کی ریلیز کے بارے میں سید محمد علی کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد بھارت کو یہ پیغام دینا ہے کہ امریکہ بھارت کے مفادات کے پیشِ نظر پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
اُن کے بقول یہ رقم اُن کانٹریکٹرز کے لیے مختص ہو گی جو اس پروگرام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس رقم کا کوئی حصہ بھی پاکستان کو نہیں ملے گا۔
دفاعی ویب سائٹ 'کووا' کے مطابق امریکہ سے آنے والے فنڈز ٹیکنیکل سیکیورٹی ٹیم (ٹی ایس ٹی) کو ملیں گے۔ یہ ملک میں موجود کانٹریکٹرز کا ایک دستہ ہے جس کا کام سخت مانیٹرنگ اصولوں کے مطابق 'ایف-16' کے استعمال کی نگرانی کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت پاکستان ایئر فورس ایف- 16 اور خاص طور پر نئے F-16C/DB-52 طیارے صرف انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔