|
ویب ڈیسک -- یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر یں گے۔ ملاقات میں یوکرین کی معدنیات اور قدرتی وسائل سے متعلق امریکہ-یوکرین تاریخی معاہدہ بھی متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر زیلنسکی مستقبل میں کسی بھی قسم کی روسی جارحیت کی صورت میں صدر ٹرمپ کو یوکرین کے لیے امریکہ کی سیکیورٹی ضمانت پر قائل کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق دورۂ واشنگٹن کے دوران صدر زیلنسکی کی قیادت میں یوکرینی وفد امریکہ کے ساتھ تاریخی اقتصادی معاہدے پر دستخط کر سکتا ہے جس کا مقصد جنگ سے تباہ حال یوکرین کی مالی مدد بھی شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ایسا معاہدہ ہو گا جو آنے والے عرصے میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط رکھے گا۔
اس ممکنہ معاہدے کو یوکرین میں تین برس سے جاری جنگ کے خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جمعے کی ملاقات میں مستقبل میں یوکرین کی سیکیورٹی سے متعلق معاہدے پر بھی بات ہو سکتی ہے۔
'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی جانب سے دیکھے گئے ابتدائی اقتصادی معاہدے کے مطابق امریکہ اور یوکرین ایک مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ قائم کریں گے۔ یوکرین اپنے قدرتی وسائل اور معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 50 فی صد حصہ اس فنڈ کے لیے مختص کرے گا۔ اس فنڈ کے ذریعے جنگ سے تباہ حال یوکرین کی تعمیرِ نو بھی کی جائے گی۔
یوکرین کی فوج نے تین برس سے جاری جنگ کے دوران اپنے سے تعداد میں زیادہ اور تربیت یافتہ روسی افواج کے سامنے مزاحمت کی ہے۔ تاہم یوکرین کے رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ کی ثالثی میں کسی ممکنہ معاہدے میں مستقبل میں یوکرین کی سلامتی کی گارنٹی شامل ہو۔
بہت سے یوکرینیوں کو یہ خدشہ ہے کہ عجلت میں طے پانے والے امن معاہدے سے روس کو زیادہ رعایتیں مل سکتی ہیں۔ لہٰذا ماسکو کو مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے لیے فوج کو منظم کرنے کا موقع مل جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے یوکرین کو اربوں ڈالرز کی فوجی امداد دی۔ لہٰذا اس معاہدے کے ذریعے یوکرین کو امریکہ کو یہ رقم واپس کرنے کا موقع ملے گا۔
لیکن یوکرین کے صدر زیلنسکی کا یہ مؤقف رہا ہے کہ یوکرین کے وسائل تک امریکہ کی رسائی کے ساتھ ساتھ کیف کی سیکیورٹی کی ضمانت کا معاہدہ بھی ہونا چاہیے۔
لیکن اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے تاحال یوکرین کو کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے۔
ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "میں کوئی سیکیورٹی ضمانتیں دینے نہیں جا رہا۔۔۔ہم چاہتے ہیں کہ یورپ یہ گارنٹی دے۔"
یوکرین میں جنگ بندی کی صورت میں فرانس کے صدر اور برطانوی وزیرِ اعظم کسی بھی ممکنہ امن مشن کے لیے اپنی فوجیں بھیجنے پر رضامندی ظاہر کر چکے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ سے واشنگٹن میں ملاقاتیں کی ہیں۔
اس ممکنہ امن مشن کا مقصد مستقبل میں کسی بھی روس، یوکرین تنازع کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔
لیکن وائٹ ہاؤس کے عہدے دار کے مطابق اُنہیں نہیں لگتا کہ فرانس اور برطانیہ، یوکرین میں پورے یورپ سے اتنی فوج جمع کر سکتے ہیں جو امن مشن کے لیے کافی ہو۔
وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ اگر بہت سے ممالک نے اپنی فوج تعینات کرنے کی حامی بھری تو یوکرین اور روس کے درمیان 'متفقہ امن تصفیہ' کا امکان ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ یوکرین کو مغربی ممالک کے اتحاد (نیٹو)میں شامل ہونے کو بھول جانا چاہیے۔
لیکن اس کے باوجود صدر ٹرمپ کے منصب سنبھالنے کے بعد صدر زیلنسکی سے پہلی ملاقات کو یوکرین کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ خود صدر زیلنسکی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ "صدر پوٹن سے پہلے اُن کی ٹرمپ سے ملاقات ایک اچھا اشارہ ہے۔"
اس رپورٹ کے لیے بعض معلومات ایسوسی ایٹڈ پریس سے لی گئی ہیں۔
فورم