|
ویب ڈیسک—اسرائیل اور حماس کے درمیان مزید چار ہلاک یرغمالوں کی باقیات کے تبادلے اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ امریکہ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق حماس کے عہدیداروں نے منگل کی شب تصدیق کی ہےکہ فریقین میں معاملات پر اتفاق ہو گیا ہے جس کے بعد اسرائیلی جیلوں سے فلسطینیوں قیدیوں کو بدھ کو رہا کیا جائے گا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق بدھ کو حماس مزید چار ہلاک یرغمالوں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کرے گا جب کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی مصر کے حکام کے ذریعے کی جائے گی۔
چھ سو سے زائد فلسطینی قیدیوں کو گزشتہ ہفتے رہا کیا جانا تھا لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر ان کی رہائی منسوخ کر دی تھی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ جب تک یرغمالوں کی تضحیک آمیز تقاریب منعقد کیے بغیر حوالگی نہیں ہوتی اس وقت تک فلسطینی قیدیوں کی رہائی مؤخر رہے گی۔
اسرائیلی کی جانب سے قیدیوں کی رہائی مؤخر کرنے کے سبب غزہ جنگ بندی معاہدے کے بارے میں خدشات نے جنم لیا تھا۔
تاہم امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ فریقین کے درمیان اس وقت کافی پیش رفت ہو رہی ہے۔
واشنگٹن میں منگل کو ’امیریکن جیوش کمیونٹی‘ کی تقریب سے خطاب کے دوران اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ اسرائیل اپنا ایک وفد مذاکرات کے لیے بھیج رہا ہے۔ یہ وفد قطر یا مصر جائے گا جہاں ان دونوں ممالک کے ذریعے مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسٹیو وٹکوف نے بدھ سے اسرائیل کا دورہ کرنا تھا۔تاہم انہوں نے یہ دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ اب اگر مذاکرات درست سمت میں بڑھے تو وہ اتوار سے اس دورے کا آغاز کر سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق حماس کے رہنما خلیل الحیاہ کی قیادت میں ایک وفد نے مصر کا دورہ کیا تھا اور مصری حکام سے ملاقات بھی کی تھی۔
واضح رہے کہ امریکہ، قطر اور مصر کی ثالثی میں فریقین نے گزشتہ ماہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا اور 19 جنوری کو باقاعدہ طور پر یرغمالوں اور قیدیوں کے تبادلے کا عمل شروع ہو ا تھا۔
چھ ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی معاہدے کی مدت رواں ہفتے کے آخر تک ختم ہو رہی ہے اور اس دوران فریقین کو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات کرنا ہیں۔
جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس نے 33 یرغمالوں کو رہا کیا ہے جب کہ 8 ہلاک یرغمالوں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا تھا جن میں سے چار کی باقیات وہ پہلے ہی حوالے کرچکی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس ہلاک یرغمالوں کی باقیات بدھ کو کسی تقریب کے بغیر مصر کے حوالے کرے گی۔
غزہ جنگ کا آغاز سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر دہشت گرد حملے کے بعد ہوا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1200 افراد ہلاک اور لگ بھگ 250 کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔
حماس کو امریکہ اور متعدد مغربی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل کی شروع کی گئی کارروائیوں میں حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 48 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس تعداد میں ہلاک ہونے والوں میں 17 ہزار عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔
اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے لی گئی ہیں۔