|
ہیوسٹن میں مرغیاں فروخت کرنے والی ایک کمپنی کے ورکرز کو آج کل سر اٹھانے کی فرصت نہیں ہے اور اس کی وجہ انڈوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔
سال 2024 کے آغاز میں امریکہ میں برڈ فلو پھیلنا شروع ہوا جس کی وجہ سے پولٹر ی فارمز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور یہ سلسلہ رواں برس بھی جاری ہے۔
امریکہ کے محکمۂ زراعت کے مطابق رواں برس دو کروڑ سے زائد انڈے تلف کیے گئے ہیں جب کہ دسمبر میں ایک کروڑ 32 لاکھ مرغیوں کو تلف کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں آج کل امریکہ میں انڈے مہنگے ہوگئے ہیں۔
امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں جون بیری ایک لائیو اسٹاک کمپنی چلاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انڈوں کی قلت کے ساتھ گھر میں پالنے کے لیے مرغیوں کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ان کی سیل دگنی تگنی ہوگئی ہے یعنی اب وہ ہفتے میں 100 یا اس سے بھی زیادہ مرغیاں فروخت کر لیتے ہیں۔
امریکہ میں اعلیٰ کوالٹی کے انڈوں کی قیمت 10 ڈالر فی درجن تک پہنچ گئی ہے جب کہ کم ترین درجے کے انڈوں کی قیمتیں بھی دگنی ہو گئی ہیں جو دو سے تین ڈالر کے درمیان ہوتی تھی۔
معروف اسٹور 'ٹریڈر جو' نے ایک گھر کے لیے یومیہ ایک درجن انڈے خریدنے کی حد مقرر کردی ہے اور دیگر اسٹورز بھی ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔
ریستورانوں میں ایسے کھانے کی ڈشز کی قیمیتں بڑھا دی گئی ہیں جن میں انڈے استعمال ہوتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے سیاٹل میں ایک ریستوران کے اسٹور روم سے 500 انڈے چوری ہونے کی خبر بھی سامنے آئی تھی۔
’میری فیملی بہت بڑی ہے‘
لائیو اسٹاک کمپنی کے مالک جون بیری نے کہا کہ ان کے پاس آنے والے مرغیوں کے زیادہ خریدار انڈوں کی پیداوار کے بارے میں نہیں جانتے۔
یہی معاملہ ایک خریدار آرٹرو بیکیرا کا ہے جنہوں نے 400 ڈالر میں انڈے دینے والی 10 مرغیاں خریدی ہیں اور ساتھ ہی مہینے بھر کے لیے 20 ڈالر کی فیڈ بھی لی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ مزید 15 مرغیاں پالنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اُن کی فیملی بہت بڑی ہے۔
بیکیرا کی مرغیاں ابھی چھوٹی ہیں اور نہیں انڈوں پر آنے کے لیے چند مزید ہفتے درکار ہوں گے۔
بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیکساس میں صرف احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے والوں ہی کو گھروں میں مرغیاں رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگراں ادارے 'سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن' (سی ڈی سی) کا کہنا ہے پرندوں سے انسانوں میں پھیلنے والے زکام سے صحتِ عامہ کو 'کم درجے' کا خطرہ لاحق ہے تاہم ادارے نے گھروں میں پرندے رکھنے والوں کے لیے احتیاطی تدابیر جاری کردی ہیں۔
سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ جو لوگ اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریوں یا تفریح وغیرہ کے لیے پرندوں کے درمیان جاتے ہیں یا جو ایچ فائیو وائرس سے متاثرہ حیوانات کے قریب گئے ہوں ان کے متاثر ہونے کے خدشات بہت زیادہ ہیں۔
اس سب کے باوجود 52 سالہ بیکیرا اپنی دُھن کے پکے ہیں اور اپنے گھر میں مرغیاں پالنے کے ارادے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ انڈے بہت مہنگے ہو گئے ہیں اور میرے پاس مرغیاں رکھنے کے لیے کچھ جگہ بھی ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ مرغیاں پالنا اس مسئلے کا سستا حل ہے۔
مرغیاں، انڈے اور قانون
انڈوں کی کمی پورے کرنے کے لیے مرغیاں پالنے کا راستہ ہے تو سستا اور آسان لیکن یہ ایسا نہیں کہ کوئی جب چاہے اور کہیں بھی چاہے مرغیاں پال لے۔
امریکہ میں مختلف ریاستوں کے مختلف قوانین کے تحت مقامی انتظامیہ سے اس کی اجازت لینا ضروری ہے۔
ریاست کنیٹیکٹ سے تعلق رکھنے والی 'چکن بلاگر' کیتھی شیا مورمینو نے گھر میں 50 مرغیاں پال رکھی ہیں۔ وہ اپنے ایک بلاگ میں لکھتی ہیں کہ مرغیاں پالنے کا ارادہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ آپ کو اپنی کاؤنٹی، شہر یا مقامی انتظامیہ سے اس کی اجازت ملے گی بھی یا نہیں۔
وہ مشورہ دیتی ہیں کہ مرغیاں پالنے سے پہلے اپنے علاقے میں عمارتوں کے لیے بنائے گئے قواعد کا بغور جائزہ لیں یا ان قوانین کے کسی ماہر سے مشورہ لے لیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سنی سنائی باتوں پر کان نہ دھریں کیوں کہ گھر میں مرغیاں پالنے سے متعلق کئی قواعد اور شرائط کا اطلاق ہوتا ہے۔ یعنی کیا آپ کو عمارت میں دڑبا بنانے کی اجازت ہے یا نہیں؟ شور سے متعلق قواعد کے مطابق مرغے پالنے پر پابندی تو نہیں؟
وہ لکھتی ہیں کہ کئی مرتبہ مقامی قوانین میں کوئی بات بہت واضح نہیں ہوتی لیکن اس صورت میں خود سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے اور قوانین کے بارے میں ٹھیک ٹھیک معلومات ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض حالات میں مرغیاں پالنے کی اجازت تو ہوتی ہے لیکن دیگر کئی ضمنی قواعد ہوتے ہیں۔ مثلاً کتنی مرغیاں پالی جاسکتی ہیں اور دڑبے اپنے مکان کی حدود میں کس جگہ بنانے چاہئیں جس سے پڑوسیوں کو کوئی شکایت نہ ہو۔
مورمینو ایک زرعی قصبے میں رہتی ہیں جہاں ان کے ہمسائے نے تین گھوڑے اور کچھ مرغیاں پال رکھی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اس کی قانونی طور پر اجازت ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔
انہوں نے جب اپنے قصبے کی مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ گھر میں دڑبا بنانے کے لیے اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔ لیکن وہ پہلے ہی مرغیاں پال چکی تھیں۔ بعد میں انہوں نے گھر کے پچھلے صحن میں مرغیاں پالنے کی اجازت کی قانون سازی کے لیے عدالتی جنگ لڑی۔
'حالات معمول پر آنے میں وقت لگے گا'
ایک تعمیراتی کمپنی کے مالک 62 سالہ بِلی انڈرہل طویل عرصے سے مرغیاں پال رہے ہیں اور اب وہ دو مزید مرغیاں خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ کل ہی انہوں نے کسی سے سنا کہ انڈوں کی قیمت 10 ڈالر فی درجن تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی مرغیاں بڑھانا چاہتے تھے کیوں کہ ان میں سے بعض مر گئی ہیں اور بعض انڈے دینا چھوڑ چکی ہے۔ اس لیے میں ان کی تعداد بڑھا رہا ہوں تاکہ میری فیملی کو انڈوں کی کمی نہ ہو۔
بیری کا کہنا ہے کہ جن لاکھوں مرغیوں کو فلو کی وجہ سے تلف کیا گیا ہے ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا اندازہ پہلے سے ہونا چاہیے تھا اور پہلے ہی ہزاروں یا لاکھوں مرغیوں کی پرورش شروع کردینی چاہیے تھی۔
امریکہ میں برڈ فلو سے پولٹری فارم کے علاوہ دودھ دینے والی گائیں بھی متاثر ہورہی ہیں۔
گزشتہ برس کے بعد اب تک 68 افراد فلو سے متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے ایک کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق ان افراد میں زیادہ تر ایسے تھے جو متاثرہ حیوانات کے قریب گئے تھے۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ فلو سے جس شخص کی موت ہوئی ہے وہ جنگلی پرندوں اور غیر کاروباری مقاصد کے تحت گھر پر پالے گئے پرندوں کے قریب رہا تھا۔
بیری کا کہنا ہے کہ جتنی بڑی تعداد میں مرغیاں تلف کی گئی ہیں ان کا متبادل تیار کرنے کے لیے پوری ایک نسل موجود ہے لیکن اس میں وقت لگے گا۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ لوگوں کو انڈے جمع کرنے چاہئیں۔
ان کا اندازہ ہے کہ انڈوں کی دستیابی سے متعلق بڑھتی ہوئی مشکلات ختم ہونے اور سپلائی معمول پر آنے میں دو تین ماہ لگیں گے۔
اس رپورٹ کے لیے بعض معلومات ایسوسی ایٹڈ پریس اور اے ایف پی سے لی گئی ہیں۔
فورم