وائس آف امریکہ کے یوتھ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں کی بھاری اکثریت (68 فی صد) کو انتخابات آزادانہ اور شفاف ہونے کی امید ہے۔ جن نوجوانوں کا خیال ہے کہ انتخابات میں مداخلت ہو سکتی ہے، ان کی اکثریت کا ماننا ہے کہ فوج اور امریکہ انتخابی عمل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ دیکھیے ندا سمیر کی رپورٹ۔
وائس آف امریکہ کے یوتھ سروے کے بارے میں عام سوالوں کے جوابات اور دیگر بنیادی معلومات
وائس آف امریکہ کے سروے میں جہاں پاکستان کے 70 فی صد نوجوانوں نے آئندہ انتخابات میں ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، وہیں 17 فی صد نوجوانوں نے کہا ہے کہ وہ کبھی ووٹ نہیں ڈالیں گے۔
سروے کے رائے دہندگان میں سے مردوں کے مقابلے میں خواتین کے نزدیک انتخابی نتائج ان کی روز مرہ زندگی پر اثر انداز نہیں ہوں گے
پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت کی یہ رائے ہے کہ وہ فوج اور سپریم کورٹ پر اعتماد کرتے ہیں جب کہ پارلیمان اور وفاقی حکومت پر اعتماد کرنے والے نوجوانوں کی شرح ان کے مقابلے میں کم ہے۔
سروے میں 70 فی صد نوجوانوں نے مہنگائی کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔ مردوں (66 فی صد) کے مقابلے میں مہنگائی کا شکوہ کرنے والی 76 فی صد خواتین مہنگائی کو ملک کا سب بڑا مسئلہ قرار دیتی ہیں۔
وائس آف امریکہ کے یوتھ سروے کے نتائج کے مطابق ہر چار میں سے تین نوجوانوں نے کہا کہ وہ بیرونِ ملک نہیں جانا چاہتے اور پاکستان میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔
سروے میں پر پانچ میں سے تین نوجوانوں کی رائے میں غربت کا خاتمہ پہلی ترجیح ہونی چاہیے جب کہ 58 فی صد نے بے روزگاری میں کمی کو ترجیح قرار دیا۔
پاکستان میں پارلیمنٹ کا بنیادی کام پالیسی بنانا اور قانون سازی کرنا ہے۔ لیکن صرف چار فی صد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک پالیسی بنانے کی اہلیت انتخابی امیدواروں کی وہ خوبی ہے جس کی بنیاد پر وہ انہیں ووٹ دینے کا فیصلہ کریں گے۔
پاکستان میں نوجوانوں کی اکثریت کو اُمید ہے کہ آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات شفاف ہوں گے۔ لیکن یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ 40 فی صد نوجوان الیکشن کمیشن پر اعتماد بھی نہیں کرتے۔
مزید لوڈ کریں
No media source currently available