اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر وولکر ترک نے جنیوا میں انسانی حقوق کی کانفرنس میں کہا ہے کہ میں یہ سوچ کر کانپ جاتا ہوں کہ افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے آگے کیا ہے ۔ ملک کی آدھی آبادی پر یہ جابرانہ کنٹرول آج کی دنیا میں واحد مثال ہے۔
اسپن بولدک کی ایک ورکشاپ میں 20 لوگ کام کرتے ہیں۔ وہ الیکٹرانک آلات کو توڑتے ہیں۔ ان کے پرزے الگ کرتے ہیں۔ اس کی دھاتی چیزوں کو انگلیوں یا دیسی ساخت کے کسی اوزار سے کھینچ کر باہر نکالتے ہیں اور تیزاب میں ڈال دیتے ہیں، جس میں سونا الگ ہو جاتا ہے۔ اس ورکشاپ میں مہینے میں 150 گرام سونا حاصل ہوتا ہے۔
افغانستان کی طالبان حکومت کے آرمی چیف فصیح الدین فطرت کے مطابق ٹی ٹی پی کی پاکستان میں ہی بیسز ہیں اور کچھ علاقوں پر اس کا کنٹرول ہے جہاں سے وہ پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔
سوال یہ اٹھتا کہ اگر امریکہ اور دیگرمغربی ممالک افغانستان کو سفارتی طور پر تنہا چھوڑنے کی بجائے اس سے کسی صورت میں تعلقات بناتے تو کیا مذاکرات یا معاشی امداد کے ذریعہ طالبان کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوسکتے تھے؟
اقوامِ متحدہ نے افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کی جانب سے ’اخلاقیات کے قانون‘ کے نفاذ پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
اخلاقیات کے اس قانون میں اب ان امور کے بارے میں عملے کے اختیارات کی وضاحت کر دی گئی ہے جو سماجی ربط ضبط سے لے کر نجی زندگیوں اور لباس کے انداز تک پر محیط ہیں ۔
منصوبہ بندی اور قانون سازی سے متعلق افغان وزارت کے ڈائریکٹر محب اللہ مخلص نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورس کے 281 ارکان کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے انہوں نے شرعی داڑھی نہیں رکھی تھی۔
ملا برادر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 1.4 ارب ڈالر مالیت کے 12 سرمایہ کاری جب کہ 1.1 ارب ڈالرز کے 23 تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
افغان جنگ میں حصہ لینے کے خواہش مند امریکی فوجی جرمین کوکلنز نے افغانستان میں نو ماہ گزارے۔ سن 2010 میں ان کی دیگر فوجی اہلکاروں کے ساتھ افغانستان میں تعیناتی ہوئی جس کے بعد انہوں نے افغانستان میں کیسے دن گزارے؟ جانیے انہی کی زبانی۔
افغانستان باڈی بلڈنگ اینڈ فٹنس فیڈریشن (اے ایف بی بی ایف) نے کابل میں باڈی بلڈنگ مقابلوں کا انعقاد کیا ہے۔ سات جولائی سے جاری ان مقابلوں میں مختلف صوبوں سے پہلوان شریک ہیں۔ 17ویں مسٹر افغانستان مقابلوں کے فاتح کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا۔
مجاہد، دوحہ کانفرنس سے افغان دارالحکومت واپسی پر نامہ نگاروں سے بات کر رہے تھے۔ دوحہ میں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے تحت پیر کو ختم ہونے والی، افغانستان کے لیے بین الاقوامی نمائندوں کی دو روزہ کانفرنس میں افغان وفد کی قیادت کی تھی۔
افغانستان میں لڑکیوں کی ساتویں جماعت سے تعلیم پر پابندی کو لگ بھگ تین برس ہونے والے ہیں۔ خواتین پُر امید ہیں کہ تعلیم کے حصول پر لگی پابندی جلد ختم ہو گی۔ اس پابندی کی وجہ سے وہ کیا محسوس کرتی ہیں؟ جانیے ان ہی کی زبانی نذرالاسلام کی اس رپورٹ میں۔
مزید لوڈ کریں