سری لنکا: ہاتھیوں اور انسانوں کی مڈبھیڑ کے دوران ہزاروں ہلاکتیں، حکام پریشان

  • سال 2015 سے 2024 کے دوران 1195 افراد اور 3484 جنگلی ہاتھی ہلاک ہوئے۔
  • یہ اعداد و شمار "حیران کن" ہیں: اپوزیشن رہنما
  • سری لنکا میں ہاتھیوں کو مارنا یا نقصان پہنچانا فوجدرای جرم ہے۔
  • زیادہ تر ہاتھیوں کو کرنٹ لگا یا گیا، گولیاں ماری گئیں یا زہر دیا گیا ۔

ویب ڈیسک — سری لنکا میں ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان مڈبھیڑ کے باعث ہلاکتوں کے ہوش ربا اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق ایک دہائی کے دوران مختلف واقعات میں 1200 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ 3500 سے زائد ہاتھیوں کی جان گئی۔

حکام نے دیہاتیوں اور جنگلی ہاتھیوں کے درمیان ہونے والے تصادم سے فوری نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

سری لنکا کے وزیرِ ماحولیات دمیکا پاتا بندی نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ جنگلی حیات کےمحفوظ مقامات کے قریب دیہاتوں پر ہاتھیوں کے حملے کم کرنے کے لیے مزید برقی باڑیں بنائیں گے اور اضافی عملہ تعینات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم انسان-ہاتھی مڈبھیڑ کو کم کرنے کے لیے مزید رقم مختص کر رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ کچھ ہی عرصے میں ہم صورتِ حال کو بہتر کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔"

ان کا کہنا تھا کہ 2015 سے 2024 کے دوران1195 افراد اور 3484 جنگلی ہاتھی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ رواں سال جنوری میں مزید تین افراد اور 43 ہاتھی مارے گئے۔

اپوزیشن رہنما نلین بنڈارا کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار "حیران کن" ہیں۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ لوگوں کا تحفظ کریں۔ ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنائیں کہ جنگلی جانوروں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ جنگلی ہاتھیوں کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے پر ایک دہائی کے دوران تقریباً ایک کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی لاگت آئی ہے جب کہ اسی اثنا میں ہاتھیوں کے حملے سے متاثرہ لوگوں کو معاوضے کی مد میں لگ بھگ 40 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے۔

سری لنکا میں ہاتھیوں کو مارنا یا نقصان پہنچانا فوجدرای جرم ہے۔ جہاں جنگلی ہاتھیوں کی تعداد اندازاً سات ہزار ہے اور انہیں ایک قومی خزانہ تصور کیا جاتا ہے جب کہ بدھ مت میں بھی انہیں خاص اہمیت حاصل ہے۔

تاہم ہاتھیوں کو مارنے کا سلسلہ جاری ہے کیوں کہ کسان ہاتھیوں کے فصلوں پر حملوں اور روزگار کو نقصان پہنچانے کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں۔

زیادہ تر ہاتھیوں کو کرنٹ لگا یا گیا، گولیاں ماری گئیں یا زہر دیا گیا ۔ کبھی کبھی جانوروں کو پھلوں میں دھماکہ خیز مواد لگا کر زخمی بھی کیا جاتا ہے جس کا اختتام اکثر درد ناک موت کی صورت میں ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ ہاتھی اپنے مسکنوں کے قریب گزرنے والی ٹرینوں کے ذریعے بھی ہلاک ہوتے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5

سری لنکا: پلاسٹک کا کچرا کھانے سے ہاتھیوں کی ہلاکت

ایک ہفتے قبل ہبرانا ریجن میں ایک ایکسپریس ٹرین کی زد میں آ کر سات ہاتھی ہلاک ہوئے جس میں چار بچے بھی شامل تھے۔ یہ ملک میں ریکارڈ ہونے والا اس نوعیت کا سب سے بدترین حادثہ تھا۔

ایشیائی ہاتھیوں کو بین الاقوامی یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی جانب سے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان ہاتھیوں میں سے تقریباً 26 ہزار جنگل میں رہتے ہیں جن میں سے زیادہ تر بھارت میں پائے جاتے ہیں اور یہ اوسطاً 60 سے 70 سال قید سے باہر زندہ رہتے ہیں۔

اس رپورٹ میں شامل معلومات اے ایف پی سے لی گئی ہیں۔