امریکی اور افغان طالبان عہدے دار قطر میں جاری مذاکرات میں دو دن کے وقفے کے بعد ہفتے کے روز انہیں دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔
طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں جانب کے تکنیکی گروپس کی پوری توجہ افغانستان سے امریکی قیادت کی غیر ملکی فورسز کی مکمل واپسی سے منسلک مسائل پر مرکوز ہو گی۔
طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے کہا ہے کہ مذاکرات میں شامل امریکی ٹیم سے گفت و شنید اچھی رہی اور وہ صحیح سمت پر جا رہے ہیں۔
طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ ہمارے دو اہم مسائل ہیں۔ ہمارے لیے افغانستان سے تمام غیر ملکی فورسز کی واپسی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اور امریکی جانب سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان کی سر زمین کو امریکیوں اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے، جو ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، مذاکرات کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ موسم گرما کے آخر سے جب واشنگٹن نے طالبان سے وہ براہ راست مذاكرات کیے تھے جن کے بارے میں امریکی عہدے دار کہتے ہیں کہ ان کا مقصد بنیادی طور پر افغانستان کے اندر ایک پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا تھا، قطر میں جاری یہ اجلاس مذاكرات کا پانچواں مرحلہ ہے۔
دوسری جانب افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ صرف افغان عوام ہی اپنے ملک میں امن کے لیے ریڈ لائنز کا تعین کر سکتے ہیں۔ وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے مطابق انہوں نے افغان خواتین کی ایک کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت اپنے ملک میں عارضی امن کو قبول نہیں کرے گی۔
قیام امن کے سلسلے میں یہ مذاكرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اقوام متحدہ نے اس ہفتے کے شروع میں ایک نئی رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال افغانستان میں تنازعے سے منسلک واقعات میں لگ بھگ چار ہزار عام شہری ہلاک ہوئے تھے ۔