|
ویب ڈیسک—مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان شروع ہونے کو ہے اور اگر آپ روزے کی حالت میں صحت مند اور توانا رہنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو درست خوراک کا انتخاب کرنا ہو گا۔
روزوں میں متوان غذا روٹین میں شامل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر سحر اور افطار میں درست غذا کا انتخاب نہیں کیا گیا تو اس کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق امریکہ کی ورجینیا کومن ویلتھ یونیورسٹی کی ماہرِ غذائیات سونیا اسلام کا کہنا ہے سحری میں پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذا لینا اچھا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اچھے فیٹ (چکنائی) والی غذا بھی صحت کے لیے مفید ہوتی ہے جن میں ایواکاڈوز اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔
سونیا اسلام کے مطابق سحر میں سبزیاں استعمال کرنے سے یہ جسم کو تروتازہ رکھتی ہیں۔
ماہرِ غذائیات تجویز کرتے ہیں کہ چینی والی غذا کا انتخاب اچھا نہیں ہے کیوں کہ یہ جلد ہضم ہو جاتی ہے جس کے بعد آپ کو مزید کریونگز یعنی طلب ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ چائے یا کافی سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ آپ پانی یا نان کیفی نیٹڈ ڈرنک کا ستعمال کریں۔ کیفین کے استعمال سے بعض لوگوں کو پیشاب زیادہ آتا ہے جس سے جسم ڈی ہائیڈریٹ ہو جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی تجویز کے مطابق سحری میں ہلکی غذا کا استعمال کریں جس میں فائبرز کے لیے سبزیاں، پروٹین کے لیے انڈے، چیز، دہی اور کاربو ہائڈریٹس کے لیے چپاتی وغیرہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افطار میں اوور ایٹنگ یا ضرورت سے زیادہ کھانے سے گریز کریں کیوں کہ اوور ایٹنگ کے بعد آپ خود کو سست محسوس کرتے ہیں۔
برطانیہ کے مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم 'مسلم کاؤنسل آف بریٹین' (ایم سی بی) رمضان ہیلتھ گائیڈ کے مطابق افطار میں تلی ہوئی اشیا جیسے پکوڑے اور سموسے کھانے سے گریز کریں۔
گائیڈ لائن کے مطابق تلی ہوئی اشیا کے برعکس چنے یا فروٹ چاٹ استعمال کریں۔ جب کہ سموسوں یا پکوڑے کو تلنے کے بجائے اسے بیک کر کے بھی کھایا جا سکتا ہے۔
ایم سی بی کی رمضان گائیڈ لائن میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ چینی والے مشروبات یا کھانوں کی جگہ پھلوں کا استعمال کیا جائے۔
اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے لی گئی ہیں۔
فورم