|
گزشتہ موسم گرما میں عامر علی جب پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع اپنے گاؤں کی تنگ گلیوں سے یورپ کے ترقی یافتہ ملک اسپین کے لیے نکلے تو انہیں لگا کہ ان کی بہتر زندگی کا خواب آخرکار پورا ہونے والا ہے۔
اس سے پہلے 21 سالہ نوجوان یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے ویزا حاصل کرنے میں سات بار ناکام ہو چکے تھے۔ آغاز سفر کے چھ ماہ بعد، جنوری کے وسط میں عامر علی ان 22 پاکستانیوں میں س شامل تھے جنہیں مراکش کے حکام نے مغربی افریقہ کے ساحل سے بحر اوقیانوس میں پھنسے ہوئے تارکین وطن کی کشتی سے ڈوبنے سے بچایا۔
اسی دوران 43 پاکستانی ان 50 مردوں میں شامل تھے جو انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں بھوک، پانی کی کمی اور جسمانی تشدد سے ہلاک ہو گئے۔
اب پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں اپنے گھر میں زخمی پاؤں کے ساتھ لنگڑاتے ہوئے عامر علی کہتے ہیں کہ وہ زندہ رہنے پر اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔
عامر علی نے بتایا،" ایسا نہیں ہے کہ ہم کھانے یا پانی کی وجہ سے زندہ بچ گئے۔ "ہرگز نہیں. یہ صرف اتنا ہے کہ خدا ہمیں بچانا چاہتا تھا، اس لیے ہم بچ گئے۔"
دسمبر 2024 سے اب تک تارکین وطن کو یورپ لے جانے والی کشتیوں کے حادثات میں درجنوں پاکستانی ہلاک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کا شمار ان 10 سرفہرست ملکوں میں نہیں ہوتا جہاں سے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخلے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن آتے ہیں۔ پھر بھی اس کے ہزاروں شہری ہر سال یورپ پہنچنے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔
حکام کے مطابق انسانی اسمگلر بھی بہت چالاکی سے اپنا کام کرتے ہیں کیونکہ ان کے نیٹ ورک کے کرتا دھرتا افراد ملک میں اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ سر کردہ افراد اپنے جرم سے حاصل ہونے والی رقوم کو منتقل کرنے کے لیے ڈیجیٹل کرنسیوں کا استعمال کرتے ہیں۔
عامر علی 3 فروری 2025 کو پاکستان کے ضلع گجرانوالہ میں اپنے گھر میں بستر پر زخمی پاؤں پر آرام کر رہے ہیں۔
ایک تکلیف دہ سفر
عامر علی کا سفر گوجرانوالہ سے 1,200 کلومیٹر فاصلے پر واقع جنوبی شہر کراچی سے شروع ہوا۔ اسمگلروں کی مدد سے حاصل کیے گئے ویزے پر وہ سینیگال کے لیے ہوائی جہاز میں سوار ہوئے۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے علی نے سینیگال کے حوالے سے بتایا،، "مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس نام کا کوئی ملک ہے۔"
سینیگال پہنچنے پر علی نے موریطانیہ کا ویزا حاصل کیا، جہاں وہ تقریباً پانچ ماہ تک درجنوں دوسرے تارکین کے ساتھ ایک محفوظ گھر میں رہے۔
اب علی کے خوابوں کا سفر بھیانک خواب میں بدل رہا تھا۔
"ایک کمرے میں اتنے زیادہ لڑکے تھے، بیٹھنے تک کو جگہ نہیں تھی،" علی نے کہا۔ یہ ذہنی طور پر بہت تکلیف دہ تھا، انہوں نے کہا۔
نئے سال کے دوسرے روز یعنی 2 جنوری کوعلی صبح کے وقت 80 سے زیادہ دیگر افراد کے ساتھ ایک کشتی پر سوار ہوئے جسے موریطانیہ کے نواکشوٹ نامی مقام سے اسپین کے کینری نام کے جزائر کی طرف روانہ ہونا تھا۔
لیکن ایک ہی دن کے سفر کے بعد کشتی کا ایندھن ختم ہو گیا۔ بوجھ ہلکا کرنے کے لیے، علی نے کہا، اسمگلروں نے مسافروں کا سامان پھینک دیا اور ان سے ان کا راشن بھی لے لیا۔
عامرکے خاندان نے مویشی اور قیمتی زمین بیچ کریے تقریباً 10 ہزار ڈالر دیے تھے
ے دن کشتی پر سوار ایک آدمی بھوک سے پاگل ہو گیا۔ اس نے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ ہم سب یہ سوچ کر بہت ڈر گئے کہ آگے کیا ہونے والا ہے،" علی نے کہا۔
انہوں نے بتایا کہ اسمگلروں نے شکایت کرنے پر یا ان کے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر مسافروں کو مارا پیٹا۔
اسمگلروں نے مسافروں کو لاشوں کو پانی میں پھینکنے کو بھی کہا، علی نے بتایا، "جب ہم نے انکار کیا، یہ سوچ کر کہ ہم اپنے بھائیوں کو کیسے پھینک سکتے ہیں، تو انہوں نے ہمیں بہت مارا۔"
آزمائش کا یہ مرحلہ تقریباً دو ہفتے بعد ختم ہوا جب مراکش کے حکام نے ایک ماہی گیری کی کشتی کے ذریعے زندہ رہ جانے والوں کو بچایا۔
عامر علی کے خاندان نے مویشی اور قیمتی زرعی زمین بیچ کر اپنے بیٹے کو سپین لانے کے لیے تقریباً 10 ہزار ڈالر جمع کرنے کے لیے قرض لیا۔ اب اس کی ماں قرض کے بارے میں فکر مند ہے لیکن بیٹا زندہ ہونے پر خوش ہے۔
ملک چھوڑنے والے کون ہیں اور وہ کیوں جارہے ہیں؟
پنجاب کے ضلع گجرات میں تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر حاجی شوکت علی رنج و الم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ان کے بیٹے چوہدری عاطف گورسی اور بھتیجے چوہدری سفیان گورسی یورپ جانے کی کوشش میں زندہ نہ بچ سکے۔
ان کے گاؤں کی طرف جانے والی سڑک کے کنارے ایک نشان ان دونوں کو شہداء کے طور پر یاد کرتا ہے۔
شوکت علی نے ان دو جوان لوگوں کو بھیجنے کا ذمہ دار اپنی کمزوری قرار دیا اور سوگواروں کے درمیان بیٹھے ہوئے کہا کہ یہ کمزوری پیسہ ہے۔
پی آئی ڈی ای کی تحقیق کے مطابق موقع ملنے پر 37 فیصد پاکستانی ملک چھوڑ دیں گے
عوامی جائزوں کے ادارے گیلپ پاکستان اور "پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس" کی طرف سے حالیہ برسوں میں کی گئی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ملازمتوں کی کمی نوجوان لوگوں کے ملک چھوڑنے کی بنیادی وجہ ہے جہاں معاشی ترقی آبادی میں اضافے کے ساتھ مشکل ہی مطابقت رکھتی ہے۔
SEE ALSO: مراکش کشتی حادثہ: 'ڈنکی لگانے کا دوبارہ کہا جائے تو ملک میں رہنے کو ترجیح دوں گا'پاکستان کے "بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ" کے مطابق، صرف جنوری 2025 میں 65,000 سے زائد افراد قانونی طور پر بیرون ملک کام کرنے کے لیے گئے۔
2022 اور 2024 کے درمیان اوسطاً تقریباً 8 لاکھ شہری ہر سال کام کے لیے بیرون ملک چلے گئے۔ زیادہ تر مشرق وسطیٰ گئے لیکن کچھ یورپ گئے۔
یورپی یونین کی سرحد اور کوسٹ گارڈ ایجنسی "فرنٹیکس" کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں پاکستانیوں نے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے کی تقریباً 5000 کوششیں کیں۔
عامر علی کا آبائی ضلع گوجرانوالہ اور گورسی کزنز کا آبائی ضلع گجرات، زراعت اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے باوجود قریبی سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین اور فیصل آباد اضلاع کے ساتھ ساتھ بیرون ملک جانے کے رجحان میں سرفہرست شہروں میں شامل ہیں۔
آبادی کی ماہر در نایاب کہتی ہیں کہ ملک چھوڑنے والے یہ لوگ غریب ترین لوگوں میں شمار نہیں ہوتے بلکہ اپنے سفر پر ہزاروں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔
SEE ALSO: یونان کشتی حادثہ: 'امید ہے کہ ایسی اطلاع آ جائے کہ ہمارا بھائی زندہ بچ گیا ہے'تاہم ، در نایاب کے مطابق پیسہ ہی ان لوگوں کے ملک سے باہر جانے کا واحد محرک نہیں ہے۔ ان کے اس فیصلے میں زندگی گزارنے کا انداز اور یہ سوچ بھی شامل ہیں کہ انہیں ملک سے باہر زیادہ عزت ملے گی۔
نایاب نے وضاحت کی کہ ملک چھوڑنے کے خواہش مند بہت سے پاکستانی محسوس کرتے ہیں کہ ان سے اپنے امیر ہم وطنوں کے مقابلے میں برا سلوک کیا جاتا ہے۔ ""اس فرق نے انہیں پورے نظام کے بارے میں مایوس کر دیاہے۔"
پی آئی ڈی ای کی تحقیق کے مطابق موقع ملنے پر 37 فیصد پاکستانی ملک چھوڑ دیں گے۔
کیا زندگی بہتر ہو جاتی ہے؟
گورسی مرحومین کے ایک کزن کاشف علی نے ایک دہائی قبل اٹلی کے لیے ورک پرمٹ کے لیے اسپانسر کا انتظام کرنے پر سینکڑوں ڈالر خرچ کیے تھے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں ایک متوسط طبقے کا مزدور روزانہ تقریبا 3 ڈالر کماتا ہے جبکہ کاشف علی کے مطابق اسی کام سے وہ بیرون ملک 20 سے 25 ڈالر کماتے ہیں ۔
ان کی طرح بیرون ملک کی کمائی سے حاصل خوشحالی وسطی پنجاب کے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں ان گھروں میں نظر آتی ہیں جن کے افراد دوسرے ملکوں میں کام کرتے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہت سے دوسرے لوگوں کو یورپ پہنچنے کے لئے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی ترغیب دیتا ہے۔
منڈی بہاؤالدین کے شہری اشراق نذیر بھی ایک ایسی ہی کامیابی سے متاثر ہو کر یونان چلے گئے۔ وہ 2009 میں ترکی میں ایک سیاح کی حیثیت سے مختصر قیام کے بعد یورپی ملک میں داخل ہوئے تھے۔ پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد نذیر کو یونانی رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنے میں ایک دہائی کا طویل عرصہ لگا۔
SEE ALSO: وسطی پنجاب میں غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے کا رجحان کیوں؟وہ کئی برسوں تک گائےچرانے اور درختوں کو پینٹ کرنے جیسے چھوٹے موٹے کام کرتے رہے۔ اب وہ ایک پیکیجنگ فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور روزانہ تقریبا 60 ڈالر کماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آخر کار وہ خود کو مطمئن محسوس کرتے ہیں۔
اشراق نذیر نے "ڈسپوزیبل پلیٹیں" پیک کرتے ہوئے وائس آف امریکہ کو فون پر بتایا کہ "مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر میں پاکستان میں رہتا تو مجھے اس قسم کی نوکریوں کی وجہ سے کچھ نہ ملتا۔
"میرے دوست اب بھی وہیں ہیں جہاں انہوں نے شروع کیا تھا."اشراق نذیر نے کہا جبکہ ان کے پاس اب ایک نیا گھر اور ایک گاڑی ہے۔
ایک اور پاکستانی، ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے عمر شید اکتوبر میں لیبیا سے کشتی کے ذریعے غیر قانونی طور پر یونان پہنچے تھے۔" انہوں نے بتایا، "میں جدوجہد کر رہا ہوں. کام تلاش کرنا بہت مشکل ہے. مواقع بہت کم ہیں،"
یونان کے شہر ایتھنز میں میٹرو ٹرین کی آواز کےشور میں بات کرتے ہوئے عمر شید نے بتایا "میرے پاس مدد لینے کے لئے کوئی دوست یا رشتہ دار نہیں ہے۔
ان کے بقول شید نے اسمگلروں کو ادائیگی کرنے اور اپنے روز مرہ کے اخراجات کے لئے تقریبا 15،000 ڈالر خرچ کیے ہیں۔"سیچ بات یہ ہے کہ میں نے لوگوں کی کہانیوں پر یقین کیا اور یہ احمقانہ فیصلہ کیا۔"
اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان واپس جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن
رواں ماہ پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف قوانین کو سخت کرنے، جرمانوں اور قید کی سزاؤں میں اضافے کے لیے تین بل منظور کیے۔
ملک نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز جون 2023 میں یونان کے شہر پیلوس کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتیوں کے بدترین حادثے میں سینکڑوں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد کیا تھا۔
پاکستان کے" نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس" کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس المیے کے بعد حکام نے 854 مشتبہ انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا۔
حالیہ واقعات کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جنوری میں ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دی تھی جس کے سربراہ وہ خود ہیں۔
SEE ALSO: پاکستان: انسانی اسمگلنگ میں ملوث متعدد افراد کے خلاف کارروائیپاکستان کے وفاقی تفتیشی ادارے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے درجنوں مبینہ انسانی اسمگلروں کو گرفتار کرنے اور دیگر کے اثاثے ضبط کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ ان کے لیے چھپنے کی جگہیں تنگ کردی جائیں۔
گجرات ڈویژن کے لیے ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے بلال تنویر نے بتایا ،"پہلی بار ہم نے دیکھا ہے کہ وہ (اسمگلر) بٹ کوائن اور ڈیجیٹل کرنسی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ منی لانڈرنگ کے روایتی طریقوں سے دور ہو گئے ہیں۔"
تاہم انہوں نے کہا کہ وسائل کی کمی اور مبینہ مجرموں کو سزا دینے کی کم شرح اس جرم کو روکنے کی راہ میں ایک چیلنج ہے۔
ایف آئی اے کو بھی اس معاملے پر حکومت کی جانب سے کارروائی اور جواب دہی کا سامنا ہے۔ شہباز شریف کی حکومت نے گزشتہ ماہ ایجنسی کے سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ انسانی اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے اور اس کے خلاف ناکافی کارروائی کرنے پر 100 سے زائد اہلکاروں کو برطرف، معطل یا بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے۔
خوش قسمتی سے زندہ بچ جانے والے عامر علی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے تارکین وطن کے گروپ کو کراچی ہوائی اڈے پر سینیگال جانے والی پرواز میں سوار ہونے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
''ایجنٹوں سے ملا ہوا کوئی شخص آیا، ہمارا ہاتھ پکڑا اور ہمیں اپنے پیچھے آنے کو کہا۔ وہ جہاں بھی گیا، ہم نے اس کا پیچھا کیا،'' علی نے کہا۔ ''ہمیں کسی نے نہیں روکا۔''
لیکن ایف آئی کے افسر تنویر نے اپنی ایجنسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ افسران ملک میں داخل ہونے والوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
سانحات کے اثرات
دائیں جانب سے دوسرے نمبر پر موجود عامر علی 3 فروری 2025 کو اپنے زخمی پاؤں کو دیکھتے ۔ہوئے آرام کر رہے ہیں
دوستوں اور پڑوسیوں سے گھرے ہوئے عامر علی مایوس دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ کشتی کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے کا کسی کو ہرگز مشورہ نہیں دیں گے۔
لیکن کمرے میں ان کے ساتھ موجود دوسرے لوگ مختلف محسوس کر رہے تھے۔
ایک شخص طارق باجوہ نے کہا، "میں جھوٹ کیوں بولوں؟ دوسروں کو دیکھتے ہوئے، ہم بھی کوشش کرنے کے لئے تیار ہیں۔"
طارق باجوہ چند سالوں میں پنے نوجوان بیٹوں کے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے حامی ہیں۔
ایک اور شہری محمد زوہیب کے بھی یہی خیالات تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمندر میں ڈوبنے کا خطرہ مول لیں گے تو زوہیب، جن کے بھائی مشرق وسطیٰ میں کام کرتے ہیں، نے کہا، "کیوں نہیں؟"
زوہیب، جو بیس سال کی عمر سے کچھ زیادہ ہیں، نے کہا کہ طیارے بھی تو گر کر تباہ ہو جاتے ہیں، تو اگر کشتی ڈوب جائے تو کیا بڑی بات ہے؟
انہوں نے کہا اپنے گھر کے باہر بھی کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں وائس آف امریکہ اردو سروس کی بیورو چیف سارہ زمان کی رپورٹ ۔