رسائی کے لنکس

کرناٹک میں بی جے پی کی شکست؛ کیا نتائج 2024 کے عام انتخابات پر اثر انداز ہوں گے؟


فائل فوٹو۔
فائل فوٹو۔

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کانگریس پارٹی کی غیر معمولی کامیابی اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہونے والی شکست کو بھارت کے سیاسی منظر نامے کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ دوسری جانب بھارت کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ان انتخابات کے نتائج ملک میں 2024 میں ہونے والے عام انتخابات پر اثر انداز ہوں گے؟

اس بارے میں خود ملک میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے لیڈروں کی طرف سے متضاد آراء کا اظہار کیا جارہا ہے اور بعض مبصرین کا خیال ہے کہ کرناٹک کے انتخابات سے آئندہ برس قومی سطح پر ہونے والے الیکشن کے نتائج سےمتعلق کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

کرناٹک کے الیکشن میں کانگریس کی کامیابی کے اسباب سے متعلق بھی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین اسے راہل گاندھی کی بھرپور مہم اور اس سے قبل ’بھارت جوڑو یاترا‘ سے پیدا ہونے والے سیاسی تحرک سے جوڑ رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ راہول گاندھی اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانگریس کی اس جیت کو مقامی لیڈروں بالخصوص ڈی کے شیوا کمار اور سدھارا میا کی طرف سے کی گئی ان تھک محنت کا نتیجہ بھی مانا جارہا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کے لئے ان دو لیڈروں میں دوڑ جاری ہے تاہم نو منتخبہ ممبران اسمبلی نے اتوار کو بنگلور میں منعقدہ اپنے ایک اجلاس کے دوراں کانگریس پارٹی کے صدر ملیکا رجن کھڑگے کو وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

جو کرناٹک میں ہوا کیا پورے بھارت میں دہرایا جاسکتا ہے؟

کرناٹک کے انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کانگریس کی جیت کو سیکیولر طاقتوں کی فتح قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق :’’ہماری کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ ملک محبت کی زبان جانتا اور سمجھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرناٹک میں نفرت کا بازار بند ہوگیا ہے اور محبت کی دکان کھل گئی ہے۔ اب بھارت کی ہر ریاست میں ایسا ہوگا۔

بھارت کے کئی دوسرے سیاسی لیڈروں کی طرف سے بھی کرناٹک کے ریاستی انتخابات کے نتائج کے آئندہ انتخابات اور بی جے پی کی انتخابی کارکردگی پر اثرات سے متعلق بیانات سامنے آرہے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر اورنیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج پر اپنے فوری ردِ عمل میں کہا کہ کرناٹک کے نتائج 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

کرناٹک کے سابق وزیرِ اعلیٰ سدھارا میا بھی اس بات پر مصّر نظر آرہے ہیں کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کی جیت اس کے لیے 2024 میں ہونے والے لوک سبھا چناؤ کے واسطےمددگار ثابت ہوں گے۔

لیکن کانگریس ہی کے ایک سرکردہ لیڈر اور ترجمان ابھی شیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کے نتائج 2024میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لئے رجحان ساز نہیں ہوں گے بلکہ وہ ایک الگ اور بڑا معرکہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات ایک ایسا معرکہ ہوگا جو نسبتا" کافی بڑے پیمانے پر اور مختلف انداز میں لڑا جائے گا ۔لیکن یہ سچ ہے کہ کرناٹک سے ملک کو ایک مُثبت پیغام ضرور گیا ہے اور وہ پیغام یہ ہے کہ یہ ایک سیکیولر ملک ہے جس میں فرقہ پرستی اور مذہبی جنونیت کی سیاست پنپ نہیں سکتی ہے۔

بی جے پی 543سیٹوں پر مشتمل بھارتی پارلیمان کے ایوانِ زیریں لوک سبھا کے اگلے سال ہونے والے ان انتخابات کی تیاریوں میں لگ چکی ہے اور ان کے لئے اپنی حکمتِ عملی میں وہ حلقوں پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بی جے پی نے رواں ماہ 30 مئی کو وزیرِ اعظم مودی کے اقتدار میں نو برس مکمل ہونے پر عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کی تیاریاں بھی کرلی ہیں۔

سال 2019 میں ہونے والے عام انتخابات میں بی جے پی نے 303 نشستیں حاصل کی تھی اور اسے مجموعی طور پر کاسٹ کیے گئے ووٹوں میں سے 37 فی صد سے زائد ووٹ ملے تھے۔ 1989 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد اسے حاصل ہونے والے ووٹو ں کی یہ سب سے زیادہ شرع تھی۔

بی جے پی کے ایک طاقتور لیڈر اور وفاقی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے گزشہ دنوں کہا تھا کہ اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی 350 سے زیادہ نشستیں حاصل کرلے گی اور نئی دہلی میں ایک مرتبہ پھر وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت بنائے گی۔

’کچھ کہنا قبل از وقت ہے‘

لیکن کانگریس اور کئی دوسری اپوزیشن پارٹیوں اور لیڈروں کا اصرار ہے ' ہزاروں لغزشیں حائل ہیں لب تک جام آنے میں'۔تاہم وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان انتخابات میں بی جے پی کو ملکی سطح پر شکست دینے کے لیے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا ایک بڑا اور فعال اتحاد قائم ہونا ناگزیر ہے۔

اس سلسلے میں شرد پوار اور ریاست بہار کے وزیرِ اعلیٰ اور جنتا دل پارٹی کے لیڈر نِتش کمار نے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔ انہیں کانگریس کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس، بائیں بازو سے تعلق رکھنی والی پارٹیز اور چند علاقائی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوگئی ہے یا حاصل ہونے کی توقع ہے۔

تجزیہ کار اور 'دی ہندوستان ٹائمز' کے پولیٹیکل ایڈیٹر ونود شرما نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بارے میں فی الوقت کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ لوک سبھا کے انتخاب سے قبل مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے ریاستی الیکشن ہوں گے جہاں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہوگا۔

ونود شرما کے مطابق اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ دیکھنا باقی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ کرناٹک میں کانگریس پارٹی کی جیت نے اس کی قیادت اور اراکین اور بی جے پی کی دیگر حریف سیاسی جاعتوں کے حوصلے بلند کردیے ہیں۔

ا’نتخابی تاریخ کچھ اور بتاتی ہے‘

کئی مبصرین کی رائے میں بھارت میں الیکشن کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی اسمبلیوں کے الیکشن عام انتخابات یا ان کے نتائج پر زیادہ اور ہمیشہ اثر انداز نہیں ہوتے۔

مثال کے طور پر 2018میں راجستھان، چھتیس گڑھ، کرناٹک اور مدھیہ پردیش کے انتخابات میں مایوس کن کارکردگی دکھانے کے باوجود بی جے پی نے اگلے سال یعنی 2019میں لوک سبھا چناؤ میں شان دار کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد پارٹی کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔

سال 2008 میں بی جے پی نے کرناٹک، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اگرچہ اسمبلی انتخابات جیتے تھے لیکن اسی سال وہ راجستھان اور میزورام کی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہار گئی تھی۔

اسی طرح 2008 ہی میں بی جے پی کرناٹک اسمبلی میں 110 نسشتیں حاصل کرکےسب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تھی لیکن یہ کامیابی اسے ملکی سطح پر اگلے سال یعنی 2009 کے عام انتخابات میں کوئی بڑا فائدہ نہیں پہنچاسکی تھی اور اسے لوک سبھا میں 116سیٹیں ملی تھیں۔ اس کے مقابلے میں کانگریس ن 206نشستیں حاصل کرکے ایوان کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی تھی۔

کرناٹک اسمبلی ہی کے 2013 کے الیکشن کی بات کی جائے تو اس میں کانگریس نے 122 نشستیں حاصل کی تھیں لیکن 2014 کے قومی انتخابات میں اسے بی جے پی کے ہاتھوں بری طرح شکست کا سامناکرنا پڑا تھا۔ انہی عام انتخابات میں بی جے پی نریندر مودی کی قیادت میں نئی دہلی میں حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس نے کرناٹک سے پہلے ہماچل پردیش کے انتخابات میں بھی بی جے پی کو شکست دی ہے۔ لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بی جے پی نے رواں برس مارچ میں شمال مشرقی ریاستوں تری پورہ اور ناگا لینڈ کے انتخابات میں میدان مار لیا تھا۔

اس کے علاوہ بی جے پی شمال مشرقی ریاستوں میں شامل میگھالیہ کے انتخابات کے بعد وہاں بھی نیشنل پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت میں سیاسی ماہرین کسی ایک ریاستی انتخاب کے نتائج کو کسی جماعت کی عام انتخابات میں کارکردگی کا پیمانہ تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG