رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: انسداد پولیو مہم سے وابستہ 11 اساتذہ اغوا


فائل فوٹو
فائل فوٹو

اطلاعات کے مطابق ان افراد کو کالعدم تنظیم لشکر اسلام کی طرف سے دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں کہ وہ پولیو مہم کا حصہ نہ بنیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں انسداد پولیو مہم سے وابستہ 11 افراد کو نا معلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق تحصیل باڑہ کے علاقے سپاہ کے ایک اسکول کے یہ اساتذہ علاقے میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں معاونت فراہم کر رہے تھے۔ عہدیداروں کے مطابق یہ اساتذہ براہ راست قطرے پلانے میں مصروف نہیں تھے بلکہ وہ اس مرض سے بچاؤ کے بارے میں لوگوں میں آگاہی بڑھانے کا کام کرتے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ان افراد کو خیبر ایجنسی میں سرگرم کالعدم تنظیم لشکر اسلام کی طرف سے دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں کہ وہ پولیو مہم کا حصہ نہ بنیں۔

تاحال کسی نے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ لیکن شدت پسندوں کی طرف سے دھمکیوں کے باعث افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں انسداد پولیو مہم متعدد بار تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔

پاکستان میں پولیو کے اب تک 63 کیسز سامنے آ چکے ہیں، گزشتہ سال انسانی جسم کو آپاہج کرنے والے اس وائرس سے 58 بچے متاثر ہو ئے تھے۔

رواں سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد کی اکثریت کا تعلق ملک کے قبائلی علاقوں سے ہے۔

گزشتہ برس کے اواخر سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پولیو مہم سے وابستہ افراد پر ہلاکت خیز حملے کیے جاتے رہے ہیں جن میں خواتین رضاکاروں سمیت ایک درجن سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

ان حملوں کے بعد انسداد پولیو کی ٹیموں کے ہمراہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا اور یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ بیک وقت پورے ملک میں اس وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی بجائے مختلف علاقوں میں الگ الگ وقت پر یہ کام کیا جائے۔

نائیجیریا اور افغانستان کے علاوہ پاکستان دنیا کا وہ تیسرا ملک ہے جہاں انسانی جسم کو اپاہج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

شام اور مشرق وسطیٰ میں سامنے آنے والے پولیو کیسز کے بعد عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ وائرس پاکستان سے ان علاقوں تک پہنچا ہو۔

پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر دو لاکھ سے زائد بچے ایسے ہیں جنہیں گزشتہ سال کے وسط سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے ہیں اور ان میں زیادہ تر بچوں کا تعلق شدت پسندی سے متاثرہ ملک کے قبائلی علاقوں سے ہے۔

انسداد پولیو کے حکام کے مطابق پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ اس وائرس سے بچاؤ کی مہم کو موثر بنانے کے لیے مذہبی رہنماؤں خاص طور پر امام کعبہ سے بھی مدد حاصل کرے۔
XS
SM
MD
LG