'برسوں بعد گھر گیا تو وہاں سے پتھر اور صنوبر لے آیا' 92 سالہ فلسطینی کی روداد
امریکہ میں مقیم داؤد اسد، 1948 میں سترہ، اٹھارہ برس کے تھے جب ان کے گاؤں دیر یاسین پر اسرائیلی شدت پسند ملیشیا نے حملہ کیا جس میں ان کی دادی اور دو سالہ بھائی سمیت خاندان کے27 افراد مارے گئے۔ اس حملے میں دیر یاسین میں سو سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد خراب ہوتے حالات کے باعث تقریباً سات لاکھ فلسطینی اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ فلسطینی عرب، دیر یاسین حملے سے شروع ہونے والے واقعات اور اپنی بے وطنی کو آج بھی نکبہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ نیو جرسی میں مقیم داؤد اسد سے وائس آف امریکہ کی ندا سمیر نے ملاقات کی جن کے ذہن میں پچھتر سال پہلے پیش آنے والا سانحہ آج بھی تازہ ہے۔
مزید ویڈیوز
-
مارچ 14, 2025
امریکہ میں ڈگری لینے کے بعد جاب کیسے کر سکتے ہیں؟
-
مارچ 14, 2025
لال سوہانرا کے نایاب کالے ہرن جو امریکہ سے پاکستان آئے
-
مارچ 14, 2025
بونسائی آرٹ: جو عام پودے کو قیمتی بنا دے
-
مارچ 13, 2025
کوئٹہ کے چلتن مارخور کی تعداد میں اضافہ کیسے ہوا؟
-
مارچ 13, 2025
جعفر ایکسپریس حملے کا ڈراپ سین! دو دن کے واقعات کا خلاصہ