پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فادل نے کہا کہ ممکنہ طور پر سیلاب کے بعد سے صورتِ حال مزید خراب ہوئی ہے جس سے بہت سے بچوں کی موت کا خطرہ ہے۔
گزشتہ سیلاب کا پانی سندھ کے گیارہ اضلاع میں اب بھی کھڑا ہے اور لوگوں کو شکایت ہے کہ نہ انھیں امداد فراہم کی گئی اور نہ ہی انفراسٹرکچر کی بحالی پر کام ہوا ہے۔ تفصیلات بتارہی ہیں کراچی سے سدرہ ڈار اس ویڈیو میں
ہم اب گوٹھ کوٹھی کلہوڑو میں داخل ہوچکے تھے گاڑی سے اترتے وقت میرے کانوں میں جو پہلی آواز پڑی وہ اسکول میں پڑھائے جانے والے سبق کی تھی جسے بچے با آواز بلند ایک ساتھ دہرا رہے تھے۔ مجھے اپنے اسکول کا وقت یاد آگیا۔ تقریباً 50 قدم کے فاصلے پر یہ اسکول تھا جس میں داخل ہوتے ہی مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔
سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع شہر فرید آباد حالیہ سیلاب کی زد میں تھا اور خدشہ تھا کہ یہ شہر بھی سیلابی پانی میں ڈوب جائے گا۔ لیکن مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت راتوں رات بند بنا کراس شہر کو ڈوبنے سے بچا لیا۔ سدرہ ڈار کی رپورٹ۔
سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ یونیسف کے مطابق 35 لاکھ بچوں کی تعلیم سیلاب سے متاثر ہوئی۔ ایسے میں بعض مقامات پر تعلیمی سرگرمیاں بتدریج بحال ہو رہی ہیں۔ لاڑکانہ سے سدرہ ڈار کی رپورٹ۔
بلوچستان میں حالیہ سیلاب سے ہزاروں بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی ہے۔ کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک کے ایک اسکول ٹیچر انہی سیلاب متاثرہ بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ بچوں کے ذہن سے خوف نکل سکے گا اور یہاں دوبارہ پڑھائی شروع ہوگی۔ مرتضیٰ زہری کی رپورٹ۔
کلاس روم میں بلیک بورڈ موجود تھا لیکن بیٹھنے کو فرنیچر نہیں تھا۔ نئی چمکتی ٹائلوں سے بنے تین کلاس روم پر مشتمل یہ ضلع لاڑکانہ کا گوٹھ شیر محمد بروہی کا پرائمری اسکول تھا۔
سماجی تنظیموں کے مطابق امدادی کام اب سست روی کا شکار ہے کیوں کہ غیر ملکی امداد آنے کے بعد لوگ اب سیلاب کو کسی حد تک بھول چکے ہیں۔ تو اب اس طرح سے مقامی امداد نہیں مل رہی جیسے پہلے مل رہی تھی۔
پاکستان کے صوبے سندھ میں سیلاب کو گزرے کئی ماہ ہوچکے لیکن اب بھی بہت سے علاقوں میں پانی کھڑا ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پرکھڑے پانی کی نکاسی نہ ہوئی تو گندم کی فصل متاثر ہوگی اور آئندہ برس ملک میں گندم کا بڑا بحران پیدا ہوگا۔ تفیصلات سدرہ ڈار سے
ریلوے سروس بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے تاحال بحال نہیں ہوسکی اور جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ کے بجائے مچھ سے پشاور روانہ کیا گیا۔
چادر اور چار دیواری کے تحفظ کا احساس اب بری طرح سے سیلاب سے متاثرہ خواتین کو ستا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ تباہ شدہ علاقوں میں جہاں اب پہلے جیسا کچھ بھی نہیں، یہ خواتین اس سب کے باوجود وہاں صرف اس لیے لوٹنا چاہتی ہیں کہ وہ اپنے قبیلے اور برادری کے درمیان رہ کر خود کو کسی حد تک محفوظ تصور کرسکیں۔
بلوچستان حکومت کے مطابق صوبے میں بارشوں اور سیلاب سے زراعت کے شعبے کو 98 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے جب کہ چار لاکھ ایکڑ زمین متاثر ہوئی۔ سیلاب کے سبب سیب کے 60 فی صد باغات تباہ ہوگئے ہیں۔ کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت شفاف انداز میں سروے کرائے تاکہ نقصانات کا ازالہ ہو۔ کوئٹہ سے مرتضی زہری کی رپورٹ۔
مزید لوڈ کریں