کرناٹک کے سابق وزیر غیر قانونی کان کنی کے کیس میں گرفتار

کرناٹک کے سابق وزیر غیر قانونی کان کنی کے کیس میں گرفتار

مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)نے کرناٹک کے سابق وزیر جےناردھن ریڈی اور اُن کے ایک رشتہ دار سری نواس ریڈی کو غیر قانونی کان کنی کے ایک معاملے میں گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتاری سے قبل بنگلور اور بلاری میں دونوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے جِس کے دوران جے ناردھن ریڈی کے محل نما مکان سے تین کروڑ روپے اور 20کلوگرام سونا اور سری نواس ریڈی کے گھر سے ڈیڑھ کروڑ روپے برآمد کیے گئے۔

حیدرآباد سے بنگلور پہنچنے والی سی بی آئی ٹیم کے 15ارکان کے گھروں کی تلاشی لی۔

سری نواس ریڈی ، ناردھن ریڈی کی کمپنی کے منیجنگ ڈائرکٹر ہیں۔ سی بی آئی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی لکشمی نارائن نے بلاری میں میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ریڈی برادران کو انسدادِ بد عنوانی ایکٹ کےتحت گرفتار کیا گیا ہے۔

بی جے پی نے اِس گرفتاری پر کہا ہے کہ مرکزی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف سی بی آئی کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

آندھرا پردیش کی حکومت نے غیر قانونی کان کنی کا الزام لگاتے ہوئے ریڈی برادران کے خلاف کارروائی کی اپیل کی تھی، جِس پر سی بی آئی نے دسمبر 2009ء میں کیس درج کیا تھا جِس کی بنیاد پر یہ گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ریڈی برادران نے غیر قانونی کان کنی سے حاصل بے تحاشہ دولت کی بنیاد پر کرناٹک اور آندھرا پردیش میں زبردست سیاسی طاقت حاصل کی ہے۔

اُنھیں سینئر بی جے پی لیڈر سوشما سوراج کی حمایت کی وجہ سے کرناٹک میں وزیر بنایا گیا تھا۔ غیر قانونی کان کنی کے تنازعے کے بعد کرناٹک کی نئی حکومت میں اُنھیں وزارت میں شامل نہیں کیا گیا۔

سی بی آئی نے اُن کے گھروں سے متعدد دستاویزات کی برآمدگی کے ساتھ ساتھ اُن کی ملکیت والے دو ہیلی کاپٹروں کو بھی ضبط کیا ہے۔