پچھتر برس قبل تین جون 1947 کو جب وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کانگریس اور مسلم لیگ کی قیادت کو بتایا کہ تقسیم کے جس منصوبے پر انہوں نے اتفاق کرلیا ہے اس پر دو ماہ کے عرصے میں عمل درآمد کردیا جائے گا، تو یہ اعلان دونوں جماعتوں کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔
محمد علی جناح کے کابینہ مشن کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر بعض مؤرخین کا یہ خیال ہے کہ جناح ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتے تھے اور مسلسل بدلتے سیاسی حالات اور کانگریس کا سخت مؤقف صورتِ حال کو تقسیم کی طرف لے گئے۔
گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے نے بہت سے عالمی لیڈروں کو بھی متاثر کیا جن میں مارٹن لوتھر کنگ جونئیر، نیلسن منڈیلا اور سابق امریکی صدر براک اوباما بھی شامل ہیں۔